تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 879
۸۷۹ اقتصادیات کو بولنے کا موقع دے کر سوالات کے جوابات دیئے گئے۔اس دلچسپ مجلس کے آغاز میں موڈریٹر مکرم ائیر مارشل (ریٹائرڈ) ظفر چوہدری صاحب نے سب سے پہلے اسلام کے اقتصادی نظام ( جو سیشن کا عنوان تھا) کے بارے میں کہا کہ اس محفل کی نوعیت مجلس آراء کی سی ہے۔یہ ضروری نہیں کہ مقررین کی آراء آپ کیلئے قابل قبول ہوں۔آج کل ہمیں اقتصادیات میں نئی نئی صورتوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ہمیں اس کا علم ہونا چاہئے کہ کون کون سی صورتیں مناسب اور ٹھیک اور دین کے حق کے مطابق ہیں۔مثلاً ربو ( سود ) مضاربہ اور مشارکہ کے بارے میں باری باری ماہرین اپنے موضوعات کو آراء کی شکل میں پیش کریں گے اور پھر ا حباب کو سوالات کو موقع دیا جائے گا اور ماہرین ان کے جواب دیں گے۔سوالات کے لئے علیحدہ کاغذ اور پنسل احباب کو فراہم کر دیئے گئے۔بعد ازاں جناب موڈریٹر نے ماہرین کا باری باری معہ ان کے موضوعات تعارف کروایا۔مکرم ڈاکٹر عبدالکریم صاحب نے فرمایا کہ یہ وسیع مضمون ہے۔اس لئے میں بنیادی اصولوں پر ہی اکتفا کروں گا۔قرآنی احکامات کی نشاندہی کروں گا اور تفسیر سے فریم ورک بتاؤں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ انسان اپنی محنت سے رزق کماتا ہے اس لئے اس کا حق ہے کہ وہ اسے جس طرح چاہے خرچ کرے۔مکرم ڈاکٹر صاحب نے اس سلسلہ میں سوشلزم کا اور پھر قرآنی موقف بھی بیان کیا۔اس ضمن میں انہوں نے قرآنی آیات اور ان کے ترجمے بھی سنائے۔اسی طرح اپنے موضوع کیلئے مختلف احکامات پیش کئے۔مکرم سید حضرت اللہ پاشا صاحب نے قرآن کریم میں بیان کردہ اللہ تعالیٰ کی صفات ربوبیت بیان کیں اور معاشرتی عدل، احسان اور محبت کی تفصیلات بتا ئیں۔جماعت احمدیہ کے قائم کر دہ طوعی نظام وصیت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ہم اس نظام کے ADVANCE ہیں اور ہم اس نظام کو دنیا میں پھیلا کر اس بات کو ظاہر کریں گے کہ ہم نے دین حق کا اقتصادی نظام قائم کر دیا ہے۔مکرم ظفر اقبال سیفی صاحب نے دین حق کے اقتصادی نظام کا سودی نظام سے تقابل پیش کرتے ہوئے کہا کہ دین حق کے نظام سے انصاف قائم ہوا ہے اور دولت کی صحیح تقسیم ہوئی ہے کیونکہ دین حق کی اقتصادی نظام کی بنیا د مساوات پر قائم ہے۔جبکہ دنیاوی سودی نظام سے نا انصافی اور غربت پیدا ہوتی ہے۔انہوں نے قرآنی آیات متعلقہ سود کا ترجمہ پیش کیا اور مضاربہ اور مشارکہ پر قدرے تفصیل سے روشنی ڈالی اور فرمایا کہ جماعت احمدیہ کا قیام اسی لئے ہوا ہے کہ وہ صحیح اقتصادی نظام قائم کرے۔اس اجتماع سے محترم مولانا دوست محمد صاحب شاہد مورخ احمدیت نے بھی خطاب فرمایا جو ان دنوں کراچی میں موجود تھے۔مکرم مولا نا صاحب موصوف نے اپنی تقریر میں فرمایا کہ ہمارا خدا رب العالمین ہے اور ہمارا رسول رسولوں کے شہنشاہ حضرت محمد مصطفی احمد مجتبی رحمت اللعالمین ہیں۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت کا دامن ہر ذی روح سے لیکر انسانوں تک محیط ہے۔اور ماضی حال اور مستقبل پر محیط ہے۔اور ازل سے ابد تک پوری