تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 866
۸۶۶ مکرم صوفی محمد اسحاق صاحب نے جماعت پر ابتلاؤں اور خدا تعالیٰ کی خاص تائید و نصرت کے واقعات موثر رنگ میں بیان کئے۔مجلس سوال و جواب میں مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب اور مکرم صوفی محمد اسحاق صاحب نے جوابات دیئے۔اس طرح غیر از جماعت احباب کی غلط فہمیاں دور ہوئیں۔مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب نے مورخہ ۱۰ مئی ۱۹۹۱ء کو نماز تہجد پڑھائی۔مکرم صوفی محمد اسحاق صاحب نے نماز فجر کے بعد درس قرآن کریم اور مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب نے درس حدیث اور مقامی ناصر مکرم عبدالمالک صاحب نے درس ملفوظات دیا۔اجلاس دوم میں انفاق فی سبیل اللہ ، تقویٰ، راست گوئی اور اعلیٰ اخلاق کی طرف توجہ دلائی گئی۔نیز دعوت الی اللہ اور اس کے لئے تیاری کی غرض سے مطالعہ کتب حضرت مسیح موعود کی بھر پور تلقین کی گئی۔خطبہ جمعہ میں مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب نے سیدنا حضرت مصلح موعودؓ کے لیکچر بعنوان ” نظام نو“ کے متعدد اقتباسات سنا کر نظام وصیت اور تحریک جدید کی اہمیت بیان کی۔تیسرے اجلاس میں تلاوت نظم کے بعد خدام اور اطفال کے درمیان تقریری مقابلہ جات کروائے گئے۔اس موقع پر تین انصار نے خلافت کی اہمیت، قرآن کریم کی معرفت اور جماعت احمدیہ کی منفرد حیثیت پر روشنی ڈالی۔مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب نے اختتامی خطاب میں مرکز کی طرف سے تیار کردہ جائزہ پیش کیا۔رپورٹیں بھجوانے اور مرکزی امتحانات میں شامل ہونے اور صحابہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رنگ میں رنگین ہونے کی طرف توجہ دلائی۔مکرم امیر صاحب کی فرمائش پر مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب نے اپنی ایک نظم سنائی جو دعوت الی اللہ سے متعلق تھی۔مجلس عاملہ کے اجلاس میں امیر صاحب اور جماعتی عہدیدار بھی شامل ہوئے۔اس اجلاس کے بعد تمام احباب نے گلو اجمیعا میں حصہ لیا۔اجلاس عام گوجرانوالہ غربی و شرقی ۱۰ جون ۱۹۹۱ء کو باغبانپورہ میں عشاء کے بعد اجلاسات عام منعقد ہوئے جن میں دعوت الی اللہ اور تحریک جدید کی طرف توجہ دلائی گئی۔حاضری گوجرانوالہ غربی : انصار ، خدام تیره ، اطفال گیارہ مجلس شرقی ۱۲ انصاری ، خدام چودہ ، اطفال نو۔مجلس مذاکرہ جودھامل بلڈنگ لاہور ۱۲ ۱۲ جون ۱۹۹۱ ء کو نماز مغرب کے بعد بیت الحمد ، جو دھامل بلڈنگ میں مجلس مذاکرہ منعقد ہوئی۔مکرم مولوی دین محمد شاہد صاحب نے احمدیت کا جامع تعارف پیش کیا۔مکرم حنیف احمد محمود صاحب نے خلافت کی برکات پر روشنی ڈالی۔سامعین کے سوالات کے جوابات دیئے گئے۔پانچ غیر از جماعت معززین سمیت کل حاضری تمیں رہی۔