تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 797
۷۹۷ اس کے بعد مکرم اللہ بخش صاحب صادق زعیم اعلیٰ نے عہد دہر وایا اور آخر میں صد را جلاس نے اجتماعی دعا کرائی۔﴿۱۲﴾ سالانہ اجتماع ضلع راولپنڈی ضلع راولپنڈی کا سالانہ اجتماع ۲۹، ۳۰ ستمبر ۱۹۸۳ء کو مسجد احمد یہ نور مری روڈ میں منعقد ہوا۔مرکز سے مکرم مولا نا غلام باری صاحب سیف اور مکرم مولا نا دوست محمد صاحب شاہد مورخ احمدیت نے نمائندگی کی۔افتتاحی اجلاس مکرم چوہدری احمد جان صاحب امیر ضلع کی صدارت میں شام سات بجے شروع ہوا۔مکرم مولانا غلام باری صاحب سیف نے وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا إِلَى الله کی تشریح کی اور انصار کو اعمال صالحہ بجالانے اور پیغام حق پہنچانے کی طرف توجہ دلائی۔مکرم مجیب الرحمن صاحب ایڈووکیٹ امیر شہر نے اسلام کی نشاۃ ثانیہ اور ہمارے فرائض کے موضوع پر خطاب کیا۔مکرم مولا نا دوست محمد صاحب شاہد نے ”جماعت احمد یہ کی خدمات کے سلسلہ میں جماعت کی قومی ، سیاسی اور ملی قربانیوں پر سیر حاصل روشنی ڈالی۔دس بجے شب ضلعی عاملہ اور ضلع کی چودہ میں سے بارہ مجالس کے زعماء اعلیٰ و زعماء نے ایک اجلاس میں شرکت کی جس میں مجالس کے کام کا شعبہ جائزہ لیا گیا۔۳۰ ستمبر کو نماز تہجد سے آغاز ہوا۔نماز فجر کے بعد مولا نا دین محمد صاحب شاہد نے درس قرآن کریم ، مکرم شیخ محمد یونس صاحب نے درس حدیث اور مکرم میر عبدالمجید صاحب نے درس ملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ السلام دیا۔مولانا غلام باری صاحب سیف نے پاک محمد مصطفیٰ نبیوں کا سردار کے موضوع پر خطاب کیا۔جس کے بعد ورزشی مقابلے کروائے گئے۔تیسرے اجلاس میں مولا نا دین محمد صاحب شاہد نے حضرت مسیح موعود کا جدید علم کلام پر خطاب کیا۔اسی روز حضرت خلیفتہ المسیح الرابع نے مسجد سڈنی آسٹریلیا کا سنگ بنیا درکھنا تھا۔چنانچہ ساڑھے نو بجے ( سنگ بنیاد کے وقت ) مکرم مولانا غلام باری سیف صاحب نے اجتماعی دعا کرائی۔مکرم مولانا دوست محمد صاحب شاہد نے وہ آیا منتظر تھے جس کے دن رات“ کے موضوع پر کسوف و خسوف کے حوالہ سے معلومات پہنچائیں۔مکرم مولانا غلام باری صاحب سیف نے ” برکات خلافت کے سلسلہ میں آیت استخلاف کے تشریح فرمائی۔اس اجلاس کی حاضری تین سو سے زائد تھی۔تقریری مقابلہ کے بعد آخری اجلاس منعقد ہوا۔اس کے بعد صد را جلاس مکرم مولا نا غلام باری صاحب سیف نے جماعت احباب کو بڑھ چڑھ کر مالی قربانیاں پیش کرنے کی طرف توجہ دلائی۔بعد از نماز مغرب وعشاء مجلس سوال و جواب منعقد ہوئی جس میں مکرم مجیب الرحمن صاحب ایڈووکیٹ ، مکرم مولانا غلام باری صاحب سیف اور مکرم مولا نا دوست محمد صاحب شاہد نے سوالات کے جواب دیئے۔حاضرین کی تعداد چار سو تھی۔اس اجتماع میں واہ کینٹ سے نو انصار سائیکل پر تشریف لائے۔نیز ایک دوست نے بیعت بھی کی۔