تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 796
۷۹۶ حضرت منشی اروڑے خان صاحب کے عشق اور محبت کی مثالیں پیش کیں۔مکرم مولانا نور محمد صاحب نسیم سیفی نے ” انصار اللہ کی ذمہ داریاں“ کے موضوع پر اپنا خطاب فرمایا۔آپ نے بچوں کی تربیت کی طرف خاص طور پر توجہ دلائی اور فرمایا وہی قو میں دنیا میں ترقی یافتہ شمار ہوتی ہیں جو نسلاً بعد نسل ترقی کر رہی ہوں۔آپ نے احباب کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اپنے بچوں کی اس طرح تربیت کریں کہ آپ کو اطمینان ہو جائے کہ نہ صرف وہ باتیں آپ کے بعد قائم رہیں گی جن کو آپ قائم رکھنا چاہتے ہیں بلکہ آپ کی نسل آپ سے کچھ آگے نکل جائے گی۔پھر تربیت کو بچپن کے آغاز سے ہی شروع کر دیں اور ان طریقوں کو اپنا ئیں جنہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنایا۔بچوں میں نقل کی عادت ہوتی ہے اس لئے آپ ان کے لئے اچھا نمونہ پیش کریں تا وہ اس کی نقل اور تنتبع کر سکیں۔تربیتی اجتماع کا آخری اجلاس حضرت ملک سیف الرحمن صاحب مفتی سلسلہ کی صدارت میں شروع ہوا۔مکرم ملک لئیق احمد صاحب طاہر نے تلاوت قرآن کریم کی اور مکرم بشارت اللہ صاحب نے چند اشعار ترنم سے سنائے۔جس کے بعد تقریر اور نظم خوانی کے مقابلوں میں اول ، دوم آنے والوں میں محترم مفتی صاحب نے انعامات تقسیم فرمائے اور احباب سے خطاب فرمایا۔آپ نے فرمایا مذاہب عالم میں انصار اللہ کا مقام خاص امتیازی مقام قرار پایا ہے۔جہاں تک ریکارڈ ملتا ہے، تاریخ نے انصار اللہ کے کاموں کو محفوظ کیا ہے۔ان میں سے ایک کام حضرت عیسی علیہ السلام کے انصار کا ہے۔انہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کے پیغام کو دنیا کے مختلف حصوں اور ملکوں میں پہنچایا اور پیغام پہنچانے کا حق ادا کیا لیکن ساتھ ہی انہوں نے حضرت مسیح علیہ السلام سے مائدہ طلب کرنے کے لئے کہا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کی دعا کو قبول فرمایا لیکن ساتھ ہی فرمایا اگر کوئی اس مائدہ کے نازل ہونے کے بعد بھی ناشکری کرے گا تو میں اس کو ایسا عذاب دوں گا کہ دنیا میں کسی اور قوم کو ایسا عذاب نہ دوں گا۔ان کے مقابلہ میں رسول کریم کے انصار بھی تھے جن کی وجہ سے اسلام کو طاقت اور قوت نصیب ہوئی۔ان کی قربانیوں کے شاندار نتائج نکلے ان کے متعلق خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔تم ایسی قوم ہو کہ اگر مال تقسیم ہو رہا ہو تو تم قناعت سے کام لیتے ہو۔دوڑ دوڑ کر نہیں آتے بلکہ اپنی اپنی جگہ ٹھہرے رہتے ہو لیکن اگر دین کی خاطر قربانی کا مطالبہ ہو تو تم ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہو۔بہر حال ایک تو نشاۃ اولی کے انصار تھے اور ایک نشاۃ ثانیہ کے انصار ہیں۔نشاۃ ثانیہ کے انصار میں یہ خوبی ہے کہ وہ قربانیاں دینے والے ہیں اور ان کے بدلہ میں دنیا کے طالب نہیں ہوتے۔مکرم ملک صاحب نے فرمایا : احباب نے آج بہت کچھ سنا ہے آپ اس پر عمل پیرا ہوں اور انصار اللہ کے قیام کی غرض کو پورا کریں تو خلیفہ وقت کے کاموں میں معاونت ہے۔آپ خلیفہ وقت کے کاموں میں شریک ہوں اور اپنی ہر استعداد اس سلسلہ میں خرچ کریں کہ آپ بھی پہلے انصار کی طرح اللہ تعالیٰ کے افضال کے مورد ہوں۔