تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 763 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 763

سیرت و سوانح : حضرت منشی عبداللہ سنوری صاحب۔حضرت پیر سراج الحق صاحب منعمانی۔حضرت مولانا شیر علی صاحب۔حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی۔سیدنا حضرت مرزا طاہر احمد صاحب مظہر رابع کی تحریکات ( از مکرم فضیل عیاض احمد صاحب)۔ابتدائی مربیان کی مشکلات ( از مکرم خواجہ ایاز احمد صاحب) - آخر وہ دیوار ٹوٹ گئی (از مؤرخ احمدیت مکرم مولا نا دوست محمد صاحب شاہد )۔ایک سو بیس ممالک کا مختصر تعارف ( ڈاکٹر سلطان احمد مبشر ) حصہ انگریزی میں مختصر تعارف تاریخ انصار اللہ شائع کیا گیا۔سید نا حضرت خلیفہ امسیح الرابع کا منظوم کلام ہمیں آب بقاپی کر امر ہو جانا آتا ہے اور مکرم عبدالمنان صاحب ناہید، مکرم ثاقب زیروی صاحب اور مکرم چوہدری محمد علی صاحب کے منظوم کلام بھی شاملِ اشاعت ہیں۔قرآن نمبر جولا ئی ۱۹۹۳ء کا شمارہ ” قرآن نمبر کے طور پر شائع کیا گیا۔اس شمارہ کے کل اسی صفحات ہیں۔صفحہ۸۰ پر کاتبین وحی قرآن کے اسماء مبارکہ دیئے گئے ہیں جو کہ قارئین کی معلومات میں ایک دلچسپ اضافہ ہیں۔اس نمبر کی ادارت کا اعزاز مکرم مرز امحمد الدین ناز صاحب کو حاصل ہوا۔اس شمارہ میں اداریہ، قرآن کریم ایک نظر میں، عربی ، فارسی ، اردو منظوم کلام حضرت اقدس ، ارشادات حضرت اقدس و خلفاء عظام کے علاوہ درج ذیل مضامین شاملِ اشاعت ہیں۔قرآن حکیم کے فضائل سے متعلق آسمانی بشارات ( مکرم شیخ عبد القادر صاحب)، قرآن حکیم کے فضائل و امتیازات ( مکرم عارف رومی صاحب)، فضائل القرآن ( مکرم ابوالفضل را شد صاحب)، کرۂ ارض پر زندگی کا آغاز مکرم محمود احمد اشرف صاحب) ، قرآن کریم اغیار کی نظر میں ، فہرست تراجم قرآن کریم، جماعت احمدیہ اور خدمت قرآن اغیار کی نظر میں۔منظوم کلام میں حضرت اقدس علیہ السلام کا کلام ” فضائل قرآن مجید اور مکرم مشہود احمد ناصر صاحب کی نظم ” عظمت وشانِ قرآن شامل اشاعت ہیں۔کسوف و خسوف نمبر مئی ۱۹۹۴ء کے شمارہ بطور کسوف و خسوف نمبر شائع ہوا جس کے شمارہ ہذا کے ایک سو بائیس اردو اور چودہ انگریزی صفحات ہیں۔اس کے ایڈیٹر مکرم نصر اللہ خان ناصر صاحب تھے۔اس شمارہ میں اداریہ، امام الکلام، عربی و فارسی منظوم کلام حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے علاوہ درج ذیل مضامین شامل ہیں۔” میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے۔“ ظہور قدرت ثانیہ اور الہی تصرفات کے ایمان افروز نظارے ( از مکرم مولوی محمد اعظم اکسیر صاحب)