تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 744
۷۴۴ ۱۹۸۷ء: پہلی بار بیرون ممالک کی مجالس انصار اللہ کا بجٹ بھی پیش کیا گیا ( یادر ہے کہ اس سے قبل ہر بیرونی مجلس اپنی آمدنی سے اخراجات پورا کرتی تھیں ) نیز مجلس کے بڑھتے ہوئے کام کے پیش نظر مد عملہ میں ایک نئی اسامی نائب قائد عمومی تجویز کی گئی۔۱۹۸۸ء: مد عملہ میں ایک نئی آسامی چوکیدار کی تجویز کی گئی۔۱۹۸۹ء: ایک نئی مد صد سالہ جشنِ تشکر“ قائم کر کے اس میں ایک لاکھ روپے مہیا کئے گئے۔۱۹۹۰ء: "بزم علم وادب کی ایک نئی مد قائم کر کے بیس ہزار روپے کی رقم مختص کی گئی۔۱۹۹۱ء: اخراجات سائر میں دونئی مدات گرانٹ مجلس صحت اور عطا یا برائے ہسپتال قائم کی گئیں۔یہ خرچ گزشتہ سالوں میں مد غیر معمولی سے ادا ہوتے تھے۔مستقل خرچ ہونے کی وجہ سے اس سال یہ مدات علیحدہ علیحد ہ طور پر قائم کر دی گئیں۔۱۹۹۲ء : دعوت الی اللہ کے کام میں وسعت پیدا کرنے کے لیے مد عملہ میں ایک نئی آسامی مربی سلسلہ کی رکھی گئی۔۱۹۹۳ تا۱۹۹۹ء: ان سالوں کے دوران کوئی نی مد قائم نہیں کی گئیں۔سیدنا حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ کے چندار شادات -1 مکرم عبدالرشید صاحب فنی قائد مال مجلس انصاراللہ مرکزیہ نے اپنے خط محر ر ہ ۲۶ نومبر ۱۹۸۴ء میں وصولی کی صورتحال حضرت خلیفہ اسیح کی خدمت میں پیش کی تو حضور نے اس کے جواب میں فرمایا : الحمد الله ثم الحمد الله اللهم بارك و زد جزاكم الله احسن الجزاء ۲۔اسی طرح اُن کے خط محرره ۱۱ دسمبر ۱۹۸۴ء کے جواب میں حضور انور نے تحریر فرمایا : الحمد لله ثم الحمد لله جزاكم الله احسن الجزاء -۳- محترم چوہدری حمید اللہ صاحب صدر مجلس کے خط محرره ۳۱ مارچ ۱۹۸۶ء بسلسلہ رپورٹ قیادت مال پر حضور انور نے فرمایا: جزاكم الله وجزاهم الله احسن الجزاء د بعض چھوٹے ضلع بہت آگے بڑھ گئے ہیں اور بعض بڑے ضلع پیچھے رہ گئے ہیں۔اس کی روشنی میں ان ضلعوں کو توجہ دلائیں - محترم صدر مجلس کی رپورٹ شعبہ مال محرره ۹ فروری ۱۹۸۷ء پر حضور انور نے فرمایا: جزاكم الله الحمد الله اللهم زد و بارک