تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 38
۳۸ > کی۔آپ نے ہماری اکثر مجالس کا دورہ کیا اور انصار اللہ کی تنظیم کو مضبوط قدموں پر کھڑا کیا۔اٹھارہ نئی مجالس قائم کیں۔انتخابات کروائے اور اس طرح انصار اللہ کو امریکہ میں نئی سپرٹ کے ساتھ کام کرنے کا موقعہ ملا۔اکثر انصار بھائیوں نے مرکزی گیسٹ ہاؤس ربوہ کی تعمیر کے لئے سوسو ڈالر ادا کئے۔ٹوٹل رقم چار ہزار پانچ سو ڈالر بنتی ہے۔اس طرح خدام کی معاونت میں انصار نے مسجد اٹلی اور ساؤتھ امریکہ کے لئے بھی عطایا دیئے۔مئی میں واشنگٹن میں پہلی دفعہ انصار اللہ کا اجتماع منعقد ہوا جس میں نارتھ ایسٹ ، ساؤتھ ایسٹ اور گریٹ لیکس کے انصار نے شرکت کی۔یہ اجتماع انتہائی کامیابی سے اختتام پذیر ہوا۔انصار اللہ حلقہ ساوتھ ایسٹ نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنا اجتماع انہیں تاریخوں میں منعقد کریں جن میں مرکزی اجتماع ہو رہا ہے۔اس کی کامیابی کے لئے دعا کریں۔حلقہ وارا اجتماع کرنے کے علاوہ انصار اللہ امریکہ نے فیصلہ کیا کہ وہ جماعت امریکہ کے سالانہ جلسہ کے ساتھ اپنا قومی اجتماع بھی منعقد کیا کریں۔۱۹۸۲ء میں آٹھ مجالس نے سرگرمی سے کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ان کا ۳۰ فیصد مرکزی اور مقامی چندہ کا حصہ ایک ہزار ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔پہلی دفعہ انصار اللہ امریکہ کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے مرکزی اجتماع ربوہ میں اپنا نمائندہ بھجوانے کی توفیق ملی۔انصار اللہ امریکہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔اس کو دعاؤں اور نگرانی کی ضرورت ہے۔درخواست دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح لائنوں پر کام کرنے کی توفیق دے۔آمین۔” اختتامی اجلاس سالانہ اجتماع کے تیسرے روز ۷ نومبر ۱۹۸۲ء کو حضرت خلیفہ امسیح الرابع ساڑھے گیارہ بجے کے سے قریب مقام اجتماع میں تشریف لائے۔مسجد کا سارا صحن اور اردگرد کی جگہیں انصار، خدام اور دیگر زائرین سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھیں۔کل حاضری کا اندازہ گیارہ ہزار نفوس سے زائد تھا۔حضور کی آمد پر محترم مولانا محمد شفیع صاحب اشرف نے سٹیج سے نعرے لگوائے۔انصار اور دیگر احباب کرام نے پورے جذ بہ وجوش سے ان نعروں کا جواب دیا۔تقریب کا باضابطہ آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو مکرم حافظ مسعود احمد صاحب سرگودھانے کی اس کے بعد محترم چوہدری شبیر احمد صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پاکیزہ کلام ہے کیوں عجب کرتے ہو گر میں آ گیا ہو کر مسیح ترنم سے سنایا۔اس کے بعد محترم ثاقب زیروی صاحب ایڈیٹر ہفت روزہ لا ہور نے اپنی تازہ نظم بعنوان ”ہم دیوانے اپنے مخصوص اور معروف لحن میں پڑھی۔اس کا مطلع تھا۔دیوانے بھلا کب رکتے ہیں رستے میں کھڑی دیواروں سے ہم ہنستے کھیلتے گذریں گے طوفانوں سے منجدھاروں سے