تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 26 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 26

۲۶ کرنے کے لئے ہمارا پہلے سے بھی بڑھ چڑھ کر جانی، مالی اور عزت و جذبات کی قربانیاں پیش کرنا از بس ضروری ہے اس لئے ان امور کی توفیق سعید پانے کے لئے حضور انور سے دردمندانہ دعاؤں کے خواستگار ہیں۔والسلام حضور انور کا خطاب ہم ہیں حضور پُر نور کے نا چیز اراکین انصار اللہ عالمگیر سپاسنامہ کے بعد حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایک پُر اثر خطاب فرمایا جو گیارہ منٹ تک جاری رہا۔تشهد و تعوذ اور تسمیہ کے بعد حضور نے فرمایا: مغربی قوموں میں یہ رواج ہے کہ ڈنر یعنی رات کے کھانے کے بعد تقاریر ہوتی ہیں لیکن قرآن کریم سے اس کے بالکل برعکس رواج کا پتہ چلتا ہے۔حضرت یوسف علیہ السلام نے کھانے سے پہلے تقریر فرمائی۔اور ان کے دو ساتھی قیدیوں کو جن کو تبلیغ کرنا مقصود تھا فر مایا کہ جب تک کھانا نہیں لگتا ہم بیٹھ کر تبلیغی باتیں کرتے ہیں۔اسی طرح حضرت مسیح موعود به الصلوة والسلام نے بھی لاہور میں کھانے کے انتظار میں احباب کو مخاطب فرمایا۔آج جب انصار نے مجھ سے پوچھا کہ ہم کھانے کے بعد گفتگو کا پروگرام رکھیں یا کھانے سے پہلے تو میرے ذہن میں یہی دو مثالیں تھیں جن کے پیش نظر میں نے کہا کہ کھانے سے پہلے رکھ لیں۔یورپ اپنے رواج قائم کرتا ہے۔ہم اپنے رواج قائم کریں گے۔۔۔سپاسنامے میں جس سفر کا ذکر کیا گیا ہے۔اس کا مرکزی نقطہ وہی ہے جو پہلے بیان کر دیا گیا۔کہ جو بھی اس سفر میں میسر آیا محض اور محض اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ میسر آیا۔ورنہ حقیقت یہ ہے کہ میں کیا اور میری بساط کیا۔یہ وہی یورپ ہے جہاں کبھی خیمہ لے کر ، کبھی HAVERSACK پیچھے رکھ کر میں پھرا کرتا تھا اور انہی گلیوں سے گذرتا تھا لیکن کسی کو پرواہی نہیں تھی کہ کون آیا اور کون گذر گیا۔تبلیغی گفتگو کا بھی موقعہ ملتا تھا تو زیادہ سے زیادہ ایک دو تین یا چار کو متوجہ کر سکتا تھا یہ وہی وجود ہے اس میں کوئی فرق نہیں لیکن جب اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی برکت سے مجھے اس سفر کی توفیق عطا فرمائی تو بالکل کایا پلٹ گئی۔اللہ تعالیٰ نے توفیق بخشی اور ہمت عطا کی۔لوگ سمجھتے تھے کہ میں تھک گیا ہوں۔لیکن مجھے تو پتہ ہی نہیں لگتا تھا۔کہ تھکاوٹ کیا چیز ہے؟۔۔۔جب احمدی احباب کو نئی