تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 20
شامل ہو رہے تھے۔آپ کی یہ دعائیں قبول ہونے کے منظر نے ہم اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں اس لئے آپ سے زیادہ اور کون اس تقریب میں شامل تھا۔پس انصار اللہ میں ایسے بھی بزرگ ہیں جو بہت بوڑھے ہیں بستر پر پڑے ہوئے ہلنے جلنے کی بھی طاقت نہیں رکھتے۔دوسرے لوگ سہارا دیتے ہیں تو حرکت کرتے ہیں لیکن ان کے دل زندہ اور ہمتیں جوان ہیں۔اُن کی دعاؤں میں اتنی طاقت ہے کہ وہ عرش کے پائے ہلا دیتی ہیں۔غرض اس لحاظ سے انصار اللہ کا یہ کام ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور دعاؤں کی برکت سے بہت تیزی کے ساتھ آگے بڑھیں۔بڑھاپے کی کمزوریاں ان کے کام میں جو کمی پیدا کر دیتی ہیں اُس کمی کو دعاؤں کی برکت سے وہ پورا کر سکتے ہیں۔بلکہ پورا کرنے سے بھی زیادہ اپنے دامن کو برکتوں سے بھر سکتے ہیں۔وقف زندگی کی تحریک میں نے آج خطبہ جمعہ میں تحریک جدید کے سال نو کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔اور تحریک جدید کی مالی قربانی کے پہلو کو خصوصیت کے ساتھ جماعت کے سامنے رکھا تھا۔لیکن تحریک جدید کے نظام میں اور بھی بہت سے پہلو ہیں جو مالی قربانی کے ساتھ پہلو بہ پہلو چلنے چاہئیں۔ان میں سے ایک وقف زندگی ہے۔وقف زندگی کے تعلق میں آج انصار اللہ کو تحریک کرنا چاہتا ہوں۔وہ خصوصیت کے ساتھ وقف کی طرف توجہ کریں۔اس وقت سلسلہ کو خدمت کرنے والوں کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔خدمت کے کام پھیل رہے ہیں اور اس کے ساتھ ہر شعبہ میں کارکنوں کی کمی محسوس ہو رہی ہے۔۔۔سورۃ صف کی ان آیات میں جو آپ کے سامنے ابھی تلاوت کی گئی تھیں یعنی مَنْ أَنْصَارِی اِلَی اللہ کے اس اعلان میں بوڑھے بھی شامل ہیں اور بچے بھی۔جوان بھی شامل ہیں۔اور عورتیں بھی لیکن انصار کو خصوصیت کے ساتھ میں اس وجہ سے مخاطب ہوں کہ ہماری بعض ضرورتیں فوری طور پر انصار پوری کر سکتے ہیں۔ہمارے بہت سے ایسے انصار ہیں جو ریٹائر منٹ کی عمر کو پہنچنے والے ہیں۔بہت سے ایسے بھی ہیں جو ریٹائر منٹ کو پہنچ چکے ہیں۔جن کو کوئی کام نہیں ملتا۔ان کی اس سے زیادہ خوش نصیبی اور کیا ہو سکتی ہے کہ وہ اپنی بقیہ عمر خدا کے دین کی خدمت کے لئے رضا کارانہ طور پر وقف کر دیں۔۔۔۔۔۔دوسرے وہ دوست جو ملازمت سے فارغ ہونے کے بعد رزق کے بعض اور راستے پالیتے ہیں۔ان کو نئے نئے ذرائع معاش میسر آ جاتے ہیں۔ان سے میں یہ کہتا ہوں کہ آپ