تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 358 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 358

۳۵۸ اور عمل میں احتیاط برتیں اور ذکر الہی کے بعد زیادہ سے زیادہ وقت درود و سلام میں صرف کریں اور دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ جلد از جلد صداقت کو روشن فرما دے اور اشاعت حق کے راستے کی سب روکیں دُور فرما دے۔علاوہ ازیں اس اجتماع پر خصوصیت سے پاکستان کے استحکام اور ترقی کے لئے بھی دعائیں کریں اور اس ضمن میں وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا کی دعا خاص انتہاک اور توجہ سے کرتے رہیں۔در حقیقت قوموں کی بقا اور استحکام کوسب سے بڑا خطرہ اندرونی شر اور برائیوں سے لاحق ہوتا ہے۔اگر کوئی قوم اپنے ہی نفوس کے شر اور بداعمالیوں سے محفوظ ہو تو دنیا کی کوئی طاقت اس کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔اسی طرح یہ دعا کریں کہ پاکستان میں ایک دفعہ پھر امن و امان کا دور دورہ ہو اور ہمیشہ کے لئے اس پاک وطن سے ظلم وستم اور حق تلفی اور نا انصافی کا وجود مٹ جائے۔خدا تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو اور اپنی امان میں رکھے۔اور دونوں جہان کی حسنات سے آپ کے دامن بھر دے۔آمین منسوخی اجتماع کی اطلاع پر حضور کا تبصرہ والسلام خاکسار مرزا طاہر احمد خلیفة اصیح الرابع سیدنا حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے خدام وانصار کے سالانہ اجتماعات کی منسوخی پر اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ ۹ نومبر ۱۹۹۰ء میں فرمایا: وو آج ہی FAX ملی ہے کہ دوسرا حکم نامہ یہ ملا ہے کہ صرف لاؤڈ سپیکر کی اجازت ہی منسوخ نہیں کی جاتی بلکہ اجتماع منعقد کرنے کی اجازت ہی منسوخ کی جاتی ہے۔اس وجہ سے ربوہ میں بہت ہی بے چینی ہے ، تکلیف ہے اور صاف معلوم ہوتا ہے FAX کے انداز سے ہی کہ احمدی نوجوان جو مقامی ہیں یا باہر سے آئے ہیں ، اس وقت بہت کرب کی حالت میں ہیں۔ان کو میں سمجھانا چاہتا ہوں۔آپ تو لمبے سفر والی قوم ہیں۔ایسے لمبے سفر والی قوم ہیں جن کی آخری منزل قیامت سے ملی ہوئی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے جب یہ فرمایا کہ مسیح اور قیامت آپس میں ملے ہوئے ہیں تو بعض علماء نے یہ سمجھا کہ اس کا مطلب ہے کہ مسیح کے آتے قیامت آ جائے گی ، بڑی ہی جہالت والی بات ہے۔مراد یہ تھی کہ مسیح کا زمانہ قیامت تک ممتد ہوگا۔بیچ میں اور