تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 357
۳۵۷ موقع کے لئے پیغام بھیجوانے کی درخواست کی گئی۔حضور انور نے از راہ شفقت پیغام ارسال فرمایا۔عین وقت پر حکام بالا نے اجتماع کی اجازت واپس لے لی۔اس طرح یہ اجتماع منعقد نہ کیا جا سکا اور ملتوی کر دیا گیا۔حضور کا یہ پیغام بعد میں چھپوا کر انصار میں تقسیم کیا گیا اور مجالس کو بھی بھجوایا گیا۔یہ ولولہ انگیز اور بصیرت افروز پیغام یہاں پیش کیا جاتا ہے۔" بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم میرے پیارے انصار بھائیو! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! مجھے یہ معلوم کر کے بہت خوشی ہوئی کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے امسال آپ کو اپنا سالانہ اجتماع ۱۶، ۱۷، ۱۸ نومبر کو منعقد کرنے کی توفیق عطا ہورہی ہے اور ضلعی انتظامیہ نے پہلے کی نسبت بہتر اور شریفانہ رویہ اختیار کیا ہے، خدا کرے کہ ان کے رجحان میں یہ منصفانہ تبدیلی ایک اتفاقی حادثہ نہ ہو بلکہ انصاف کی طرف اُٹھنے والا پہلا قدم بن جائے یہاں تک کہ اسلامی تعلیم کے مطابق حکومت پاکستان احمدیوں سے انصاف ہی کا نہیں بلکہ احسان کا سلوک کرنے والی بنے اور آپ کی تمام کھوئی ہوئی آزادیاں آپ کو جلد واپس عطا ہوں۔یہ چند دن جو اجتماعی رنگ میں دعاؤں اور عبادات اور دینی باتوں اور نیک اعمال میں صرف ہوتے ہیں اور کسی پہلو سے بھی کوئی احمدی نہ شر انگیز بات سوچتا ہے ، نہ بولتا ہے ، نہ کرتا ہے۔لیکن سابقہ تجربہ ہمیں بتاتا ہے کہ دشمن ادنی ادنیٰ بہانوں کی تلاش میں رہتا ہے اور اگر کسی سے کوئی معمولی لغزش بھی ہو جس سے اس کے کلام کو غلط معنی پہنانے کا بہانہ ہاتھ آ جائے تو الزام تراشی سے گریز نہیں کرتا اور اچھی طرح حق بات جانتے بوجھتے ہوئے بھی ایسے موقع پر بھر پور نا جائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔امسال مجلس شوری میں بھی ایسا ہی ایک نہایت تکلیف ده واقعہ پیش آیا تھا اور بعض معصوم احمدیوں کو جو حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی خاک پا کے بھی غلام ہیں، اس انتہائی اذیت ناک ظلم کا نشانہ بنایا گیا کہ نعوذ باللہ انہوں نے سرور دو عالم سیدنا ومولانا حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی شان میں کوئی ناواجب کلمے کہے۔سب دُنیا کے احمدی جانتے ہیں کہ ہر احمدی کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی عزت و ناموس اتنی عزیز ہے کہ اس راہ میں اگر اسے لاکھ جانیں بھی عطا ہوں تو ہر جان اپنی سعادت سمجھتے ہوئے شار کر دے گا۔اور امر واقعہ یہی ہے کہ دشمن کو بھی فی الحقیقت آنحضور صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے احمدیوں کی اس والہانہ محبت کا علم ہے لیکن اس کے باوجود ایسے ظالمانہ الزام لگانے سے بھی باز نہیں آتا۔پس اس سارے عرصہ میں خصوصیت کے ساتھ کلام