تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 334 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 334

۳۳۴ شامل کرنے کی تلقین کی۔مکرم عبدالرشید صاحب غنی نے موصولہ رپورٹس اور مال کا مجلس وار جائزہ لیا اور ہدایات دیں۔اجلاس نماز مغرب کے وقت ختم ہوا۔چھ مجالس کے نمائندگان شریک ہوئے۔تاریخ : ۱۷ اکتوبر ۱۹۸۹ء مقام : فیصل آباد مرکزی نمائندگان: مکرم مولانا دوست محمد صاحب شاہد ، مکرم ملک منور احمد صاحب جاوید ضرر پورٹ: اجلاس عاملہ: مرکزی نمائندگان نے اجتماع مجلس انصار اللہ فیصل آباد میں شرکت کی۔تاریخ : ۲۶ اکتوبر ۱۹۸۹ء مقام: کھاریاں ضلع گجرات مرکزی نمائندگان: مکرم بشارت احمد صاحب چیمہ نائب قائد اصلاح وارشاد مختصر رپورٹ : اجلاس عاملہ : مورخہ ۲۶ اکتوبر کو بعد نماز عشاء مجلس کھاریاں کی عاملہ کا اجلاس ہوا جس میں مکرم بشارت احمد صاحب چیمہ نے مجلس کی مساعی کا جائزہ لیا اور ہدایات دیں۔نماز تہجد و درس: اگلے روز صبح نماز تہجد باجماعت ادا کی گئی جو مرکزی نمائندہ نے پڑھائی۔اس میں حاضری بارہ رہی۔نماز فجر کے بعد درس میں مرکزی نمائندہ نے دعوت الی اللہ کی فرضیت اور اس کی موثر کارکردگی کے ذرائع بتائے۔اس درس کو اکتیس افراد نے سُنا۔دورہ اٹک و پیشاور مکرم محمد اسلم شاد صاحب منگلا، مکرم محمد اعظم صاحب اکسیر اور مکرم غلام حسین صاحب پر مشتمل وفد نے اٹک اور پشاور کی مجالس کا دورہ کیا جس کی مختصر رپورٹ درج ذیل ہے۔تاریخ : ۲۷ اکتوبر ۱۹۸۹ء مقام: اٹک مختصر رپورٹ: اجلاس عام مجلس انصار اللہ کے تحت بعد نماز مغرب اجلاس عام ہوا۔تلاوت اور نظم کے بعد مکرم محمد اسلم شاد صاحب منگلا نے حضور انور کے خطبات کی روشنی میں احباب کو نماز با جماعت اور تربیت اولاد کی طرف توجہ دلائی۔اس کے بعد مکرم محمد اعظم صاحب اکسیر نے دعوت الی اللہ کے ذرائع خصوصاً دعا کا ہتھیار استعمال کرنے کی ترغیب دی۔اجلاس رات نو بجے تک جاری رہا۔حاضری چھبیس رہی۔تاریخ: ۲۷ اکتوبر ۱۹۸۹ء مقام : شیخ محمدی ضلع پشاور مجلس سوال و جواب: مجلس انصار اللہ کے تحت صبح دس بجے شیخ محمدی میں مجلس سوال و جواب ہوئی جس میں وہاں پر موجود غیر از جماعت دوستوں کے سوالات کے جوابات مکرم محمد اعظم صاحب اکسیر نے دیئے۔یہ مجلس ساڑھے گیارہ بجے ختم ہوئی اس میں پچیس غیر از جماعت دوستوں نے شرکت کی۔اس مجلس سے قبل مرکزی وفد نے مقامی احباب سے ملاقات کی اور نماز با جماعت کا جائزہ لیا اور اس کی طرف احباب جماعت کو توجہ دلائی۔پشاور کے سفر کے دوران راستہ میں بازید خیل میں رُک کر دوستوں سے ملاقات بھی کی۔اس کے بعد وفد پشاور روانہ ہو گیا۔