تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 3
ریکارڈ سے اُمید ہے مل جائیں گی۔“ مکرم چوہدری صاحب کی اس تحریر کے بعد جب صدر انجمن احمد یہ میں رابطہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ صدر انجمن احمدیہ نے زیر 82-06-9/16 [ حضورا نور کی ہدایات کو مختصراً ریکارڈ کیا ہے۔اس کے مطابق ۱۱ جون ۱۹۸۲ء کو قصر خلافت میں حضرت خلیفہ اسیح الرابع کی صدارت میں اجلاس منعقد ہوا جس میں ممبران صدر انجمن احمد یہ ہمبر ان تحریک جدید انجمن احمد یہ ممبران وقف جدید انجمن احمد یہ ، اراکین مجلس عاملہ انصار الله مرکزیہ، اراکین مجلس عاملہ خدام الاحمدیہ مرکز یہ اور امراء ضلع نے شرکت کی۔اس موقع پر حضور انور نے جو ارشادات فرمائے ، اُس کا خلاصہ یہ ہے۔۱- صدر انجمن اور تحریک جدید مشتر کہ اجلاس کریں۔بہشتی مقبرہ کی قبروں کی مرمت وغیرہ کے متعلق طریق کار تجویز کریں کہ ایسے موقع پر کتنے ناظر اور وکیل موجود ہوا کریں کیونکہ اس وقت کوئی طریق کار اس بارہ میں موجود نہیں (حالانکہ لوائے احمدیت کے بارے میں طریق کار مقرر ہے ) ایسے موقع پر صدقات کا انتظام بھی ہونا چاہئے۔۲ - مرکز میں اطلاعات کا ایک مرکز ہو۔کوئی اطلاع کہیں آتی ہے اور کوئی کہیں۔یہ معاملہ سٹینڈنگ انتظامیہ کے سپر د تھا۔اس کی رپورٹ مشتر کہ اجلاس میں پیش ہو۔اطلاعات کا سینٹر چومیں گھنٹے کھلا رہے۔اس کا انچارج ایک نائب ناظر ہو۔یہ امر بھی طے کیا جائے اکٹھا کہ ہنگامی صورت میں کون کون سے فون کا م کریں گے۔متبادل فونوں کا بھی فیصلہ کیا جائے۔ربوہ اور ربوہ کے ارد گر د فیصل آباد اور سرگودھا سے رابطہ کے مد نظر بھی فونوں کے متعلق طے کیا جائے۔۳۔بعض کاموں کے لئے Computer کی ضرورت ہے۔مثلاً نظام وصیت کے لئے حضرت خلیفہ المسیح الثالث رضی اللہ عنہ نے مشاورت میں اس ارادہ کا اظہار فرمایا تھا۔اس کے متعلق جلد data کر کے بعض دوستوں کو امریکہ بھجوایا جائے۔۴ جلسہ سالانہ کے لئے روٹی پکوائی کا انتظام کے متعلق باہر جا کر غور ہونا چاہئے۔لازماً اس سال ایک بلکہ دو خود کار روٹی پکانے والی مشینیں لگ جانی چاہئیں۔چوہدری حمید اللہ صاحب خود یا ضرورت ہو تو ان کے ساتھ ایک اور آدمی چلا جائے اور جائزہ لے کر مشینیں خرید لی جائیں۔-۵- قصر خلافت میں بجلی کا انتظام توجہ چاہتا ہے۔چھوٹے جزیٹر لوڈ نہیں اُٹھاتے نیز Automatic Switching Over نہیں ہے۔کئی کئی دفعہ آدمی کو جا کر جنریٹر چلانا پڑتا ہے۔امریکہ سے گیس سے چلنے والے خود کار جزیرتمیں سے چالیس کلو واٹ تک بلکہ پچاس کلو واٹ تک capacity کے جزیٹرز کے متعلق معلومات حاصل کی جائیں۔قصر خلافت ، دفتر P۔S اور مسجد مبارک کو اس