تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 2 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 2

اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے جماعت پر غیر معمولی انعامات اور افضال کی بارش نازل فرمائی۔مجلس عاملہ کا سید نا حضرت خلیفتہ اسیح الرابع سے شرف ملاقات سید نا حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے مسندِ خلافت پر متمکن ہوتے ہی مرکزی عہدیداران کی ایک اہم میٹنگ ۱۱ جون ۱۹۸۲ء کو بوقت دس بجے دفتر پرائیویٹ سیکرٹری ربوہ میں طلب فرمائی۔اس میٹنگ میں نائب صدور سمیت جملہ ممبران عاملہ نے شرکت کی۔اس ضمن میں مکرم و محترم چوہدری حمید اللہ صاحب نے استفسار پر مندرجہ ذیل جواب ارسال کیا: 1- ۱۱ جون ۱۹۸۲ء کو جمعہ کا دن تھا۔2 صبح حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایک اجلاس طلب فرمایا تھا۔جس میں مندرجہ ذیل مدعو تھے۔- ناظران صدرانجمن احمدیہ ii - وکلاء تحریک جدید iii- وقف جدید کے ناظمین iv- اراکین مجلس عاملہ انصار اللہ مرکزیہ ۷- اراکین مجلس عاملہ خدام الاحمدیہ مرکز بیہ -V vi- غالبا پردہ کے پیچھے لجنہ اماءاللہ کی عاملہ بھی موجود تھی۔3- خاکسار بحیثیت ناظر ضیافت و بحیثیت نائب صدر مجلس انصاراللہ مرکز یہ اس اجلاس میں شامل تھا۔4- بہت سے فیصلے ہوئے تھے۔جو غالباً صدرانجمن احمد یہ میں ریکارڈ ہوئے تھے۔ہوسکتا ہے وہاں سے مل جائیں۔5- دو فیصلوں کا میرے ساتھ تعلق تھا۔حضور خلافت پر فائز ہونے سے پہلے مجلس انصاراللہ مرکزیہ کے صدر تھے۔اپنی جگہ حضور نے خاکسارکوصدر مجلس انصارالله مرکز یہ نامزدفرمایا۔ii- حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے مسجد سپین کے افتتاح کے لئے جانے والے وفد میں صدر مجلس انصار اللہ کو شامل کیا تھا۔حضور رحمہ اللہ کے ارشاد پر خاکسار بحیثیت صدر مجلس انصار اللہ مسجد سپین کے افتتاح کے لئے جانے والے وفد میں شامل ہوا اور باقی ممالک کے دورہ میں بھی شریک رہا۔iii- کچھ کمیٹیاں بھی بعض کاموں کے لئے مقرر کی گئی تھیں۔بعض صدرا انجمن احمد یہ کے متعلق تھیں اور بعض تحریک جدید کے متعلق۔یہ حصہ مجھے واضح طور پر یاد نہیں۔دفتر پرائیویٹ سیکرٹری یا صد را انجمن احمدیہ کے