تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 250
۲۵۰ جماعت احمد یہ چنیوٹ نے مجلس کی کارکردگی مختصر بیان کی۔انصار گیارہ، خدام بارہ اور پانچ اطفال سمیت کل حاضری ستائیس تھی۔تاریخ : ۱۲ فروری ۱۹۸۸ء مقام: اونچے مانگٹ ضلع گوجرانوالہ مرکزی نمائندگان : مکرم صدر صاحب مجلس انصار الله مرکز یہ مکرم محمد اسلم صاحب شاد منگلا قائد تربیت ، مکرم مولانا دوست محمد صاحب شاہد مؤرخ احمدیت مختصر رپورٹ : اجلاس عام : اجلاس عام مجلس انصار الله تحصیل حافظ آباد بمقام اونچے مانگٹ کا اجلاس عام زیر صدارت صدر محترم منعقد ہوا۔مکرم لئیق احمد صاحب عابد نے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم ( صبر واستقامت ) کے موضوع پر تقریر کی۔اس کے بعد مکرم محمد اسلم صاحب شاد منگلا نے تربیت اولا د اور موجودہ دور کی ذمہ داریوں اور جو بلی کی تیاری کے روحانی پروگرام وغیرہ کی طرف توجہ دلائی۔اس کے بعد امیر ضلع مکرم ڈاکٹر آفتاب احمد صاحب نے چند تعارفی کلمات بیان کرتے ہوئے صدر مجلس کو خطاب کی دعوت دی۔صدر محترم نے مطالعہ کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی موجودہ دور کی ذمہ داریوں اور صد سالہ جشن تشکر کی تیاری کی طرف توجہ دلائی۔اس کے بعد داعیان الی اللہ اور زعماء کرام کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا اور کارکردگی کا جائزہ لے کر ہدایات جاری کی گئیں۔نماز جمعہ مکرم مولانا دوست محمد شاہد صاحب نے پڑھائی۔جمعہ کے بعد اجلاس عام منعقد ہوا۔مکرم مولانا دوست محمد صاحب شاہد نے اجلاس کو خطاب کیا۔اجلاس کی حاضری بارہ سو تھی۔تقریباً نصف تعداد خواتین کی تھی۔غیر از جماعت احباب بھی اس اجلاس میں شریک ہوئے۔تاریخ: ۱۲ فروری ۱۹۸۸ء مقام : احمد آباد جنوبی ضلع خوشاب مرکزی نمائندگان: مکرم صوفی محمد الحق صاحب استاد جامعہ احمدیہ، مکرم خواجہ محمد اکرم صاحب ، مکرم حافظ عبدالمنان صاحب کوثر کا رکن دفتر مختصر رپورٹ : اجلاس عام : مجلس انصار اللہ کے تحت اجلاس عام نماز جمعہ سے شروع ہوا۔خطبہ جمعہ مکرم صوفی محمد اسحق صاحب نے دیا۔حضورانور کے خطبہ جمعہ فرمودہ یکم جنوری ۱۹۸۸ء کا خلاصہ بیان کیا اور استقامت کی طرف توجہ دلائی۔جمعہ کے بعد اجلاس عام میں مکرم خواجہ محمد اکرم صاحب نے دعوت الی اللہ، نماز با جماعت ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے مطالعہ کے موضوعات پر تقریر کی۔نیز انصار اللہ کی خریداری کی طرف توجہ دلائی۔چنانچہ دونئے خریدار بنے۔اس کے بعد مکرم صوفی محمد اسحق صاحب نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے انسانیت پر احسانات کے موضوع پر تقریر کی۔حاضری انصار چودہ، خدام آٹھ ، اطفال سات، لجنات اٹھارہ اور ناصرات بارہ سمیت اُنسٹھ رہی۔اجلاس کا اختتام ساڑھے تین بجے سہ پہر ہوا۔واپسی پر ڈیرہ چانن میں اسیر راہ مولیٰ مکرم جہانگیر محمد صاحب جوئیہ کے اہل خانہ سے ملاقات بھی کی۔تاریخ : ۱۴ فروری ۱۹۸۸ء مقام: بجکه ضلع سرگودھا