تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 232 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 232

۲۳۲ مالی قربانیوں میں اضافہ کے لئے احباب کو تلقین کی اور اس کے علاوہ اطفال کی تعلیم و تربیت سے متعلق ہدایات دیں۔ادرحمہ کی جماعت سے اطفال ، خدام اور انصار کی حاضری ستر رہی جبکہ تخت ہزارہ کی جماعت کی کل حاضری چالیس رہی۔تاریخ: ۱۱دسمبر ۱۹۸۷ء مقام : بھان امید علی ورک ضلع خوشاب مرکزی نمائندگان : مکرم محمد اسلم شاد صاحب منگلا قائد تربیت، مکرم مولانا فضل الہی صاحب سینئر استاد جامعه، مکرم غلام حسین صاحب کا رکن دفتر مختصر رپورٹ : مجالس انصاراللہ ضلع خوشاب کے تحت ضلعی اجتماع منعقد ہوا۔ضلع کی اٹھارہ مجالس میں سے پندرہ کی نمائندگی ہوئی جن سے شعبہ عمومی ، مال ، تربیت اور خاص طور پر نماز سے متعلق رپورٹ لی گئی۔خطبہ جمعہ میں مکرم مولانا فضل الہی صاحب بشیر نے موجودہ حالات میں جماعت کی ذمہ داریوں پر توجہ دلائی۔جبکہ مکرم محمد اسلم شاد صاحب منگلا نے سیرۃ النبی پر روشنی ڈالی۔کل حاضری ایک سو پچاس رہی۔تاریخ : ۱۰ دسمبر ۱۹۸۷ء مقام را ولپنڈی شہر مرکزی نمائندہ: مکرم مولانا محمد اسماعیل صاحب منیر قائد اصلاح وارشاد مختصر رپورٹ: مجلس انصار اللہ راولپنڈی کے تحت ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں مرکزی نمائندہ نے راولپنڈی کے عہدیداران انصار اللہ سے ملاقات کی ان کو دعوت الی اللہ کے طریق کار اور اہمیت کو واقعات کی صورت میں بیان کیا۔عہد یدارن کی حاضری چھپیں رہی۔تاریخ ۱۱ دسمبر ۱۹۸۷ء مقام : مانسہرہ ضلع ہزارہ مرکزی نمائندہ: مکرم مولا نا محمد اسماعیل صاحب منیر قائد اصلاح وارشاد ررپورٹ : مورخہ ۱۱ دسمبر کو جلسہ سیرۃ النبی منعقد ہوا۔خطبہ جمعہ میں مرکزی نمائندہ نے سیرۃ النبی پر روشنی ڈالی دیگر مقررین نے بھی سیرت کے موضوع پر تقاریر فرما ئیں۔کل حاضری تینتالیس رہی۔تاریخ : ۱۳ دسمبر ۱۹۸۷ء مقام : فیصل آبا دشہر مرکزی نمائندگان : مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب صدر مجلس ، مکرم مولانا سلطان محمود صاحب انور ناظر اصلاح وارشاد، مکرم ملک منور احمد صاحب جاوید قائد تحریک جدید مختصر رپورٹ : مجالس انصاراللہ فیصل آبادشہر کے تحت جلسہ عام منعقد ہوا۔مکرم مولانا سلطان محمود انور صاحب نے انصار بھائیوں کو ان کی ذمہ داریوں خصوصا تربیت اولاد کی طرف توجہ دلائی۔بعد ازاں مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب نے احباب کو تربیتی امور پر توجہ دلائی مثلاً نماز با جماعت، نماز تہجد ، تلاوت قرآن پاک، استغفار، حمد اللہ اور بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کو زندگی کا حصہ بنانے پر زور دیا۔اس کے علاوہ دعوت الی اللہ کی ضرورت اور اہمیت واضح کی۔اجلاس میں حاضری انصار ایک سو پانچ ، خدام ایک سو پینسٹھ اور اطفال ایک سو دس رہی یعنی کل