تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 209 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 209

۲۰۹ خاندان یا کوئی افراد خدا کے فضل سے توفیق پائیں یا بعض جماعتیں تو ان کے لئے یہ دعوت عام ہے : اڑیہ، ٹرکش ، نارویجن، فانٹی، پشتو، پولش، تامل، ملائی ، طوالو، چیک، مینڈھے، گنڑی، گجراتی ، پور چوگیز ، سویڈش اور آسامی (۵۹) اس با برکت تحریک میں سعادت حاصل کرنے کی خاطر مجلس انصار اللہ مرکزیہ نے حضور انور کی خدمت اقدس میں یہ درخواست کی کہ ایک زبان میں ترجمہ کی طباعت کی سعادت مجلس حاصل کرنا چاہتی ہے اور اس پر اُٹھنے والے جملہ اخراجات تمام دُنیا کے انصار برداشت کریں گے۔حضور انور نے از راہ شفقت اِس درخواست کو شرف قبولیت عطا فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ مجلس انصار اللہ عالمگیر گجراتی زبان میں قرآن کریم کے اخراجات اپنے ذمہ لے۔مجلس انصار اللہ مرکزیہ کی اس پیشکش کو منظور فرماتے ہوئے سیدنا حضرت خلیفہ امسیح الرابع نے صدر محترم کے نام ۲۰ ستمبر ۱۹۸۷ء کو جو خط تحریر فرمایا وہ ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔اسے من وعن نیچے درج کیا جاتا ہے۔حضورانور کا مکتوب بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ ۲۰-۹-۸۷ مکرم و محترم چوہدری حمید اللہ صاحب صدر مجلس انصاراللہ مرکز یہ السلام عليكم ورحمة الله وبركاته صد سالہ جو بلی کے موقع پر دنیا کی سوزبانوں میں قرآن کریم کے تراجم پیش کرنے کے سلسلہ میں کسی ایک زبان میں ترجمہ قرآن کے اشاعت پر آنے والے اخراجات کی ادائیگی کا آپ نے وعدہ کیا ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک بہت بڑی سعادت ہے جو آپ کو حاصل ہوئی۔فجزاكم الله خيراً۔اللہ تعالیٰ آپ کے لئے اس وعدہ کو پورا کرنا آسان فرما دے۔اس بارے میں آپ کی طرف سے جلد از جلد ادائیگی ہونی چاہیے تاکہ ہم تسلی کے ساتھ وقت پر طباعت کا کام مکمل کر سکیں۔آپ کے ذمہ گجراتی زبان میں ترجمہ قرآن کی اشاعت لگائی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ مبارک کرے۔آپ کا اور آپ کے خاندان کا حافظ وناصر ہو۔والسلام خاکسار (در تخط) مرزا طاہر احمد خلیفہ امسیح الرابع یادر ہے گجراتی زبان ہندوستان کی ریاست گجرات کی مرکزی زبان ہے۔اس کے بولنے والے