تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 152 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 152

۱۵۲ انتخاب صدر و نا ئب صد رصف دوم: اس دوران گیارہ بجے دن حضرت مرزا عبدالحق صاحب صوبائی امیر پنجاب کی زیر صدارت عرصہ ۸۶ ء تا ۸۸ ء کے لئے صدر مجلس اور نائب صدر صف دوم کا انتخاب ہوا۔اتفاق رائے سے مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب صدرا اور مکرم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب نائب صدر صف دوم منتخب ہوئے۔خطاب صدر محترم : وقفہ برائے نماز جمعہ کے بعد ۳ بجے دوپہر ایک اور اجلاس منعقد ہوا جس کی ابتداء تلاوت قرآن کریم سے ہوئی۔تلاوت کے بعد صدر محترم نے نمائندگان کو خطاب کرتے ہوئے درج ذیل امور کی طرف توجہ دلائی۔جماعت جس دور سے گذر رہی ہے ، اُس کو ساری جماعت سمجھ رہی ہے اور محسوس کر رہی ہے۔پاکستان کی جماعتوں کو جو خاص طور پر تکلیف ہوئی ہے وہ حضور انور کی جسمانی دوری ہے۔یہ دوری عارضی ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ جلدی دور ہو جائے گی۔روحانی دوری کسی طرح بھی پیدا نہیں ہونی چاہئیے۔حضور سے روحانی قرب پیدا کرنا بہت ضروری ہے۔جتنا تعلق میں بڑھے ، کم ہے۔اس کا سب سے بڑا ذریعہ حضور کی طرف سے جو ہدایات اور ارشادات موصول ہو رہے ہیں ، جماعت ان پر عملدرآمد کرنے کی پوری پوری کوشش کرے۔حضور نے رسول کریم نے ایک صحابی کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ آپ نے قیامت کے لئے کیا تیاری کی ہے۔اس کی تشریح فرماتے ہوئے حضور نے ۸ نومبر کے خطبہ جمعہ میں فرمایا کہ ہمیں اپنی تربیت کی طرف توجہ دینی چاہیئے۔ہر ذیلی تنظیم ہر ماہ ایک اجلاس صرف اس امر پر غور کرنے کے لئے منعقد کرے کہ قیام نماز کس طرح کی جائے۔انصار کی تنظیم صرف اپنی حد تک ذمہ دار نہیں بلکہ خاندان سے سر براہ ہونے کی حیثیت سے پوری جماعت کی تربیت کی ذمہ دار ہے اور اس میں ہر فرد کو شامل ہونا چاہئیے۔وعظ و نصیحت کافی نہیں۔فردا فرداً مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔مراکز نماز اور بیوت الحمد قائم کی جاویں اور حلقہ وار افراد کا تعین کیا جائے کہ کون کہاں نماز ادا کرے گا۔کارکن گھر گھر رابطہ کریں اور سب کو نماز میں شامل کرنے کی کوشش کریں، اس کے لئے جائزہ نام بنام لیا جائے مگر اس کی تشہیر نہ کی جائے۔بیمار سمجھتے ہوئے علاج ضروری ہے۔کسی کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔حضور کے ارشاد کی پابندی ہر سطح پر کروائیں اور ہر ماہ ایک اجلاس صرف اس مقصد کے لئے ہو۔جہاں مراکز نماز کا قیام ممکن نہیں وہاں گھر کا سر براہ اہل خانہ کے ساتھ نماز با جماعت ادا کرے۔صدر محترم نے مزید فرمایا کہ اصلاح وارشاد کا فریضہ ہر طرح ادا کیا جائے۔یہ بیک وقت انفرادی اور اجتماعی طور پر ادا کرنے کی کوشش کی جائے۔مجالس سوال جواب منعقد کی جائیں جو کوشش کر کے چھوٹی چھوٹی کی جائیں۔۱۹۷۴ء کے بعد جب اس طرف توجہ کی گئی تھی تو اس کا بہت فائدہ ہوا تھا۔ہر ماہ کم از کم ایک تبلیغی مجلس ضرور منعقد کی جائے۔بڑی بڑی مجالس کو چن کر اُن میں تبلیغی مجالس منعقد کریں۔داعیان الی اللہ کے پروگرام کو آہستہ آہستہ تھوڑی تعداد سے شروع کر کے وسیع کریں۔سلائیڈ ز پروجیکٹر ہر ضلع میں حاصل کرنے کی