تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 151 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 151

۱۵۱ (۳) کس سطح پر منعقد کی جائے یعنی مرکز میں یا اضلاع میں۔اس مسئلہ پر درج ذیل احباب نے اظہار خیال فرمایا۔مکرم چوہدری افتخار احمد صاحب لاہور۔مکرم بشیر الحق صاحب چوکی ضلع قصور۔مکرم نعیم احمد خان صاحب کراچی۔مکرم ڈاکٹر احمد حسن چیمہ صاحب گجرات۔مکرم چوہدری انور حسین صاحب امیر ضلع شیخو پورہ۔مکرم مولوی محمد اسماعیل صاحب منیر قائد اصلاح و ارشاد مکرم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب نا ئب صد رصف دوم۔مکرم منور شمیم خالد صاحب قائد تعلیم۔مکرم جلال الدین صاحب سیالکوٹ۔مکرم سید رفیق احمد صاحب گجرات۔مکرم میجر عبدالحمید شر ما صاحب قائد وقف جدید۔ممبران نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے وقت اس بات پر زور دیا کہ داعی الی اللہ کے لئے منتخب احباب کو تیار کیا جائے اور کلاس کروائی جائے۔نصاب حضور کے خطبات کو سامنے رکھتے ہوئے مقرر کیا جا سکتا ہے۔حوالہ جات کی فوٹوسٹیٹ کروا کر مجالس کو مہیا کی جائیں جو اہم مسائل کے بارے میں ہوں کیونکہ اصل کتب اکثر دستیاب نہیں ہوتی ہیں۔کلاس کس جگہ چلائی جائے ، اس کے بارہ میں چند اراکین مرکز میں کلاس لگانے کے حق میں تھے اور کچھ مرکز سے باہر۔یہ بھی تجویز تھی کہ بزم ارشاد کے لئے افراد کو چن کر ٹرینینگ دی جائے۔ان کا اجلاس مقامی طور پر ہر ہفتہ منعقد ہوا کرے۔مکرم چوہدری انور حسین صاحب نے فرمایا کہ خدمت خلق ، کھیلوں کے مقابلہ، سیرت النبی کے جلسے اور اس قسم کی تقریبات کے ذریعہ رابطہ بڑھایا جائے پھر دعوت الی اللہ کے لئے زمین تیار ہو سکے گی۔اسی طرح حضور کے خطبات کو شائع کر کے مجالس کو مہیا کئے جائیں۔انصار کے اجتماعات زیادہ کئے جائیں اور تمام ذیلی تنظیموں میں مکمل ہم آہنگی پیدا کی جائے یعنی جہاں تک ممکن ہو اُن کے اجتماعات اکٹھے کر لئے جایا کریں۔کلاسیں اضلاع میں ہوں۔مکرم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب نے فرمایا کہ مرکز میں کلاس وغیرہ کرنا مشکل ہوگا۔کلاس اضلاع میں ہی لگائی جائیں۔خطبات کے علاوہ مجالس سوال و جواب کے لیسٹس بھی استعمال کئے جاویں۔مرکز کے ساتھ ساتھ اضلاع اور بڑی مجالس میں بھی ٹیسٹس (CASSETS) لائبریریاں قائم کی جائیں۔کیسٹ سکیم کو مربوط کرنا لازمی ہے اور اراکین مجالس کو دعوت الی اللہ کے کام کے لئے MOTIVATION کی ضرورت ہے۔اس کے لئے ٹھوس عملی کام ہونا چاہیئے۔ممبران نے اس رائے کا بھی اظہار کیا کہ مرکزی وفود زیادہ تعداد میں مجالس میں بھجوانے کا بندوبست کیا جائے اور اُن سے زیادہ سے زیادہ دورے کروائے جائیں خاص طور پر صوبہ سرحد میں کیونکہ وہاں رابطہ کی کمی محسوس کی جاتی ہے۔اس بحث کے بعد اتفاق رائے سے تجویز منظور کرنے کی سفارش کی گئی۔