تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 131 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 131

۱۹۸۵ء ١٩٨٦ء 81972 ۱۳۱ مکرم محمد اسلم شاد منگلا صاحب مکرم مولا نا محمد عثمان چینی صاحب مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب صدر مجلس ١٩٨٨ء ۱۹۸۹ء دورہ صوبہ سندھ مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب صدر مجلس مکرم پروفیسر عبدالرشید غنی صاحب قائد مال صدر محترم کی ہدایت پر ۱۹۸۵ء میں مکرم نذیر احمد صاحب خادم چک R-184/7 کو مسلسل دو ماہ تک رابطہ احباب کی غرض سے پورے سندھ کا دورہ کرنے کا موقع ملا۔دورہ ملتان مورخه ۶ اگست ۱۹۸۵ء کو مکرم مولوی محمد اسماعیل منیر صاحب قائد اصلاح وارشاد نے ضلعی عاملہ ملتان سے خطاب کیا اور ہدایات دیں۔گیارہ ممبران عاملہ میں سے نو حاضر تھے۔مقدمات کا آغاز اینٹی احمدیہ آرڈنینس اپنے عواقب کے لحاظ سے بہت خطرناک تھا اور بتدریج اس کے جماعت کے خلاف اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے اور بہت جلد جماعت کے خلاف مختلف عدالتوں میں جعلی مقدمات کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔انصار اللہ پر مقدمات کا آغاز اگست ۱۹۸۵ ء سے ہوا۔پہلا مقد مہ مکرم مولا ناغلام باری صاحب سیف مدیر ماہنامہ انصار الله ، مکرم سید عبدالحئی شاہ صاحب پرنٹر اور مکرم چوہدری محمد ابراہیم صاحب پبلشر کے نام ہوا۔ان کے علاوہ مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب ( مضمون نگار ) اور مکرم حمید الدین صاحب کا تب بھی اس مقدمہ میں شامل کئے گئے۔اس مقدمہ کی ایف۔آئی۔آر مولوی اللہ یا ر ارشد خطیب مسجد احرار ربوہ نے ۱۳ اگست ۱۹۸۵ء کو تھا نہ ربوہ میں زیر دفعہ ۲۹۸ سی درج کروائی۔اس کے بعد مقدمات پے در پے درج ہوئے اور ان مقدمات میں مدیر ماہنامہ انصار اللہ، پرنٹر ضیاء الاسلام پریس ربوہ اور پبلشر ماہنامہ انصاراللہ کو ملوث کیا گیا۔دو مقدمات رسالہ انصار اللہ کے علاوہ بھی تھے جن میں ایک مقدمہ محترم چوہدری حمید اللہ صاحب صدر مجلس اور مکرم میجر عبدالقادر صاحب کے خلاف بھی درج ہوا۔کل مقدمات اٹھائیس درج ہوئے جن میں سے اکثر دفعات ۲۹۸سی کے تحت تھے۔ایک مقدمے میں ۱۶ ایم پی او بھی لگائی گئی۔یہ مقدمات پاکستان کی مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور انصار اللہ کے کارکنان بڑے حو صلے اور صبر کے ساتھ ان مقدمات کی پیروی کرتے چلے آ رہے ہیں۔ان سب مقدمات میں قریباً ایک ہی قسم کے مندرجہ ذیل تین الزامات لگائے گئے۔