تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 130 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 130

۱۳۰ آج بتاریخ ۳۰ اپریل ۱۹۸۵ء مجلس انصار اللہ مرکزیہ کا یہ ہنگامی اجلاس اپنے بزرگ رفیق حضرت صوفی غلام محمد صاحب کے انتقال پر ملال بتاریخ ۲۳ شہادت بمطابق ۱۲۳ اپریل ۱۹۸۵ء پر اپنے دلی رنج و غم اور ان کے اعزہ سے اظہار تعزیت کے لئے منعقد کیا گیا ہے۔حضرت صوفی غلام محمد صاحب مرحوم و مغفور کو اپنی قابل قدر خدمات اور قابلِ رشک قربانیوں کے باعث جو ا رفع اور اعلیٰ مقام جماعت میں حاصل رہا ہے وہ کسی سے مخفی نہیں ہے۔آپ نے اُن کٹھن اور اہم ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ مجلس مرکز یہ میں بھی قابلِ قدر خدمات پہلے بحیثیت آڈیٹر اور پھر بطور رکن خصوصی مجلس کے لئے سرانجام دیں جس کے باعث ہر ممبر کے لئے ان سے قربت اور دلی لگاؤ کا احساس رہا ہے۔مجلس مرکز یہ کو آپ کی خدا داد صفت حساب دانی کے علاوہ اخلاقی اور روحانی راہنمائی بھی حاصل رہی ہے۔اندریں صورت آپ کی ہمیشہ مفارقت سے ایسا خلاء واقع ہو گیا ہے جسے آسانی سے پُر نہ کیا جا سکے گا۔آپ نے اپنی جان اس وقت جان آفرین کے سپرد کی جب آپ گھر سے انجمن کے دفاتر کی طرف تشریف لے جارہے تھے۔گویا بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ حضرت صوفی صاحب نے آخری سانس تک دین کی خدمت کی توفیق سعید پائی۔ذلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ۔ہم جملہ ممبران مجلس مرکز یہ آپ کی وفات پر گہرے رنج و غم کا احساس کرتے ہوئے ان کے عزیز واقارب سے خصوصاً ان کے صاحبزادے مکرم چوہدری مبارک مصلح الدین احمد صاحب اور ان کی جملہ صاحبزادیوں سے اظہار تعزیت کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ حضرت صوفی صاحب مرحوم و مغفور کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور جملہ غمزدہ دلوں کو صبر جمیل بخشے۔آمین ، ۵۰ جلسہ سالانہ انگلستان میں مجلس کی نمائندگی اپریل ۸۴ کے آرڈی نفس کی وجہ سے پاکستان میں حضرت خلیفۃ المسیح کے فرائض منصبی کی ادائیگی مشکل ہو گئی تو اللہ کے اذن سے حضور انگلستان ہجرت فرما گئے۔پاکستان کا مرکزی جلسہ سالا نہ حکومت وقت کی اجازت نہ دینے کی وجہ سے بند ہو گیا اور خلیفہ وقت کی موجودگی کی وجہ سے جماعت احمد یہ انگلستان کا سالانہ جلسه مرکزی جلسہ سالانہ کی حیثیت اختیار کر گیا۔۱۹۸۵ء میں سید نا حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے فیصلہ فرمایا کہ جماعت احمدیہ انگلستان کے جلسہ میں پاکستان کی مختلف تنظیموں کی طرف سے ہر سال نمائندگان شامل ہوا کریں۔چنانچہ مجلس انصار اللہ مرکز یہ پاکستان کی طرف سے جن احباب کو نمائندگی کی سعادت ملی ، اُن کے نام ذیل میں درج ہیں۔