تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 115 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 115

۱۱۵ کا طریق استعمال بتایا گیا۔چنانچہ محلہ جات میں نالیوں وغیرہ کی صفائی کے بعد دوائی چھٹڑ کی گئی۔خود مکرم مرزا عبدالرشید صاحب نے بہت سی جگہوں پر دوائی ڈالی۔خریداری زمین برائے کارکنان ۱۹۸۴ء میں سیدنا حضرت خلیفہ المسح الرابع کے ارشاد کی تعمیل میں کارکنان کے لئے مجلس مرکز یہ نے زمین خرید کر پلاٹوں کی شکل میں ایسے کارکنان کو مفت دی جن کا اپنا کوئی گھر نہیں تھا۔مکانات کی تعمیر کے لئے قرضہ کی سہولت بھی مہیا کی گئی۔( ۴۷ ) کارکنان کی تنخواہوں میں اضافہ ۱۹۸۴ء میں سلسلہ کے دیگر ملازمین کی طرح مجلس کے ملازمین کی تنخواہوں میں ۳۳ فیصد اضافہ ہوا اسی طرح ہر وہ مالی سہولت جو صدر انجمن احمدیہ کے کارکنان کو حاصل تھی وہی کارکنان مجلس کو بھی مہیا کی گئی۔﴿۳۸﴾ توسیع گیسٹ ہاؤس اپریل ۱۹۸۴ء میں صدر محترم نے جدید بلاک گیسٹ ہاؤس انصار اللہ کی بالائی منزل کی تعمیر اور گیسٹ ہاؤس کی مزید توسیع کے پیش نظر عطایا کی خصوصی تحریک کی۔مکرم چوہدری شاہنواز صاحب کی فیملی نے ایک کمرے کا خرچ مبلغ چالیس ہزار روپے کی ادائیگی کر دی۔اسی طرح مکرم شریف احمد صاحب بانی کراچی نے بھی چالیس ہزار روپے کی ادائیگی کا وعدہ کیا۔خدا تعالیٰ کے فضل سے گیسٹ ہاؤس انصار اللہ کے نئے بلاک کا ایک حصہ دسمبر ۱۹۸۳ء تک مکمل ہو گیا تھا مگر اس کی بالائی منزل کی تعمیر فنڈ ز کی کمی کے باعث رکی رہی۔حضرت خلیفہ المسیح الرابع کے ارشاد کے تحت اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھتے ہوئے تعمیر کا کام ۲۴ جون ۱۹۸۵ء کو ادارہ تعمیرات مرکزی“ کو سونپ دیا گیا۔بدنام زمانہ آرڈینینس جمعرات کا دن تھا اور ۱۲۶ اپریل ۱۹۸۴ء کی تاریخ جب صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق کی طرف سے مارشل لاء کا بدنام زمانہ آرڈینینس نمبر ۲۰ جاری کیا گیا تا کہ احمدیوں کو ان کی اسلام دشمن سرگرمیوں سے باز رکھا جا سکے۔آرڈنینس کے الفاظ یہ تھے : ہر گاہ کہ یہ ضروری ہو گیا ہے کہ قانون میں ایسی ترمیم کی جائے جس سے احمدیوں کو خواہ وہ قادیانی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں یا لاہوری جماعت سے ، انہیں ان کی اسلام دشمن سرگرمیوں سے روکا جاسکے اور ہر گاہ صدر پاکستان کو اطمینان ہے کہ ایسے وجوہ موجود ہیں جن کی وجہ سے اس بارے میں فوری اقدامات ناگیز ہو گئے ہیں۔لہذ ا پانچ جولائی ۱۹۷۷ء کے اعلان اور ان کے اختیارات کے ماتحت جو صدر پاکستان کو اس اعلان کے ذریعے حاصل ہیں،