تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 83 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 83

۸۳ سائیکل پر قافلہ کے ساتھ آئے ہیں۔اس سال ایک اور نئی دلچسپ بات کا اضافہ ہوا کہ گذشتہ سال ایک دوست اپنے بیٹے اور پوتے کو سفر میں ساتھ لائے تھے۔اس دفعہ جو پچہتر سالہ بزرگ ہیں یہ اپنے پڑپوتے کو سائیکل پر بٹھا کر لائے ہیں۔عمومی طور پر ضلع سرگودھا اول آیا ہے۔جہاں سے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ۱۸۷ انصار تشریف لائے ہیں اور فیصل آبا د دوم ہے۔جہاں سے خدا تعالیٰ کے فضل سے ۷۷ انصار سائیکل پر تشریف لائے ہیں۔ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سال بعض غیر از جماعت احباب بھی شوق سے ہمارے سائیکل سواروں کے قافلوں میں شامل ہوئے اور تین دوست ایسے ہیں ( دولا ہور سے اور ایک فیصل آباد سے ) جو ابھی تک احمدی نہیں لیکن وہ اپنی محبت اور پیار کے اظہار کے طور پر سائیکل سواروں کے ساتھ آئے۔ان کی جزا تو وہی ہے جو اللہ تعالیٰ انہیں دے گا ہم تو ان کے لئے یہ دعا ہی کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اگلی دفعہ انہیں بطور احمدی شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین !) جنت حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں ہے جہاں تک عمومی کیفیت کا تعلق ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا۔حالات ایسے ہیں کہ ہر طرف سے جماعت کی مخالفت کی کوشش ہو رہی ہے۔اور پہلے سے بہت بڑھ رہی ہے اور مخالفت بعض ایسے رنگ بھی اختیار کر جاتی ہے جو مذہب کے نام پر دھبہ ہے انسان سوچ بھی نہیں سکتا کہ مذہب کی طرف منسوب ہو کر ایک انسان ایسی حرکتیں بھی کر سکتا ہے لیکن امر واقعہ یہی ہے کہ جب سے دنیا میں مذہب کا آغاز ہوا ہے مذہب اور مذہب کے مقابل پر دونوں طرف سے جیتنے کی جو جد و جہد اور کوشش ہوئی ہے اس میں ہمیشہ سچائی کے مقابل پر مذہب کے نام پر ہی مخالفت ہوئی ہے اور ہمیشہ مخالفت میں ایسے ایسے رنگ اختیار کئے ہیں کہ جن کے تصور سے بھی طبیعت کراہت محسوس کرتی ہے اور عجیب اتفاق ہے کہ دونوں طرف سے مذہب کا ہی نام لیا جاتا ہے۔لیکن یہ دوا سوے الگ الگ ہیں۔ان دونوں میں نمایاں فرق ہے۔مثلاً حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم و آلہ وسلم کے زمانہ میں یہ فرق بہت کھل کر بہت زیادہ روشن ہو کر سامنے آیا ہے جو کردار آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تھا ، وہی ہمارے لئے کافی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ میں معزز ترین اخلاق پر فائز کیا گیا ہوں اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ میں ایسے اخلاق پر مبعوث کیا گیا ہوں جو اخلاق کی بھی چوٹیاں ہیں۔پس اخلاق کو اپنا نا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق کو اپنانا یہ ہے بنیادی چیز جس کے ساتھ ہم انشاء اللہ تعالیٰ تمام دنیا کی مخالف طاقتوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔پھر ہمیں کوئی خطرہ نہیں ہے۔۔۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں جو حاضر ہوتا یا آپ سے ملنے کے لئے آتا تھا۔