تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 1009 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 1009

10+9 نائب صدر ملک کے فرائض علی الترتیب مشنری مکرم مولا نانیم مہدی صاحب ،مکرم منصور احمد خان صاحب اور مکرم مولانا مسعوداحمد جہلمی صاحب نے انجام دیئے۔مجلس انصار اللہ نے اپنے قیام کے پہلے دن سے ہی تبلیغ کی طرف خصوصی توجہ دی اور جرمن ، رائو رو مینش ، فرینچ اور اٹالین زبانوں میں لٹریچر تیار کروا کر تقسیم کیا۔انصار نے پکنک پارٹیوں کا انتظام کیا اور بعض معزز مہمانوں کے اعزاز میں پارٹیاں بھی دیں۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع کی منظوری سے انصار نے کمپیوٹر خریدنے کے لئے ۴۹۴۰ فرانک کا عطیہ مشن کو دیا۔مکرم چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ صاحب نے انصار اللہ کی تنظیم کی بیداری میں بھر پور حصہ لیا اور با قاعدہ مرکز میں رپورٹ بھجواتے رہے۔رپورٹ یکم ستمبر ۱۹۸۱ ء تا اگست ۱۹۸۲ء سید نا حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی زیورک تشریف آوری کے موقع پر مجلس انصار اللہ سوئٹزر لینڈ نے اپنی مساعی از یکم ستمبر ۱۹۸ ء تا آخر اگست ۱۹۸۲ ء کی مندرجہ ذیل مختصر رپورٹ پیش کی۔یہ رپورٹ زعیم اعلی مکرم مشتاق احمد صاحب باجوہ نے تیار کی تھی : -1 مجلس انصار اللہ سوئٹزر لینڈ بعض سولیس احمدی غیر پاکستانی احمدی اور پاکستانی انصار پر مشتمل تھی۔عرصہ زیر رپورٹ میں دو افراد کا اضافہ ہوا۔۲ - شعبہ تعلیم کے مرکزی لائحہ عمل کے تحت انصار کو تحریک کی گئی کہ وہ مسئلہ وفات مسیح کی تیاری کریں۔انصار نے اس میں بہت دلچسپی لی۔آخر میں اس بارے میں ایک مفصل تحقیقی مقالہ پیش کیا گیا۔قرآن کریم کی بعض سورتیں انصار کو حفظ کروائی گئیں۔نو مسلموں کی آسانی کے لئے ان سورتوں کی TRANSLATION تیار کی گئی۔-Y ۴۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصنیف ”اسلامی اصول کی فلاسفی مطالعہ کے لئے تجویز کی گئی۔-۵- انصار کو تحریک کی گئی کہ ہر رکن داعی الی اللہ بنے اور کم از کم ایک شخص سے ضرور رابطہ رکھے۔انصار نے فولڈرز کی تقسیم کو خاص طور پر اپنے فرائض میں شامل رکھا۔کار کی سہولت رکھنے والے انصار نے مقررہ پروگرام کے تحت حلقہ کی زبان کا خیال رکھتے ہوئے لٹریچر تقسیم کیا۔ے۔انصار اللہ نے PFANNESTIEL مقام پر ۶ ستمبر ۱۹۸۱ء کو پکنک منائی۔خواتین اور بچوں نے بھی شمولیت کی۔اس موقعہ پر فولڈر ز بھی تقسیم کئے گئے۔۸- سکاٹ لینڈ کے مربی مکرم بشیر احمد آرچرڈ صاحب سوئٹزر لینڈ تشریف لائے۔ان کے اعزاز میں بیت محمود میں ایک تقریب عشائیہ منعقد کی گئی جس میں انہوں نے قبول احمدیت کے ایمان افروز حالات سنائے جو بعد میں طبع بھی کروائے گئے۔