تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 1007
مونتا میں بلانش : مکرم حسن رمضان صاحب (۸۷ - ۱۹۷۷ء) پورٹ لوئیس: مکرم ابراہیم امام دین صاحب (۱۹۸۱۸۲ء) ، مکرم لطیف وارث علی صاحب (۱۹۸۳-۸۵ء)، مکرم نصر اللہ بھنو صاحب (۱۹۸۶۔) تری اولے (TRIOLET) : مکرم حمید پیر بخش صاحب (۷۷-۱۹۸۲ء و ۸۷-۱۹۸۴ء) ، مکرم پیر بھائی روحیماً صاحب (۶۸۳) مونتا میں لونگ : مکرم نورالدین صاحب بگھیلو۔(۸۲-۱۹۷۹ء) مکرم الہ دین صاحب بگھیلو (۱۹۸۳۸۷ء) کا تع بورن (QUATRE BORNES) : مکرم شفیع زبیر صاحب (۸۱-۱۹۸۰ء)، مکرم منصور امیر دین صاحب (۸۶) - ۱۹۸۴ ء ) ، مکرم شریف تیجو صاحب (۱۹۸۷ء) ژانچلی (GENTILLY): مکرم آدم علی بخش صاحب (۸۷-۱۹۸۴ء) کارچے ملیتر (QUARTIER MILITAIRE): مکرم ابراہیم منمرودی صاحب (۸۷-۱۹۸۴ء) کیوپپ (CUREPIPE): مکرم مجید سوکیا صاحب (۸۷ - ۱۹۸۶ء)۔ان ابتدائی عہدیداروں کی نگرانی میں مجلس ماریشس اپنے مفوضہ فرائض انجام دیتی رہیں۔مجلس حسب ضرورت لٹریچر تیار کر کے تقسیم کرتی رہی۔مکرم مبارک رمضان صاحب مجالس میں جا کر انصار کو متحرک کرتے رہے۔ان کی طرف سے مرکز میں با قاعدہ رپورٹ موصول ہوتی رہی۔بطور نمونہ ماہ مئی ۱۹۸۹ء کی رپورٹ درج کی جاتی ہے۔نماز با جماعت کی حاضری تسلی بخش رہی۔نماز جمعہ میں حاضری بہت اچھی تھی۔مرکز سے آمدہ تعلیمی پروگرام کے مطابق تدریجی کام ہوتا رہا۔انصار نماز فجر کے بعد درس قرآن کریم سے فیضیاب ہوتے رہے اور بعد نماز مغرب درس ملفوظات حضرت مسیح موعود سے استفادہ کرتے۔مکرم ناظم اعلیٰ صاحب نہ صرف روز پل (ROSE HILL) میں بعد نماز مغرب درس ملفوظات دیتے بلکہ چند خدام کو قرآن کریم ناظرہ بھی پڑھاتے رہے۔دعوت الی اللہ کا کام بھی جاری رہا۔مکرم ناظم اعلیٰ صاحب نے ۱۲ مئی ۱۹۸۹ء کو سکول کی ایک تقریب سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عزت مآب گورنر جنرل ماریشس کو کریول زبان میں دو کتا بچے (۱) منتخب آیات قرآن مجید (۲) منتخب اقتباسات حضرت مسیح موعود بطور ہد یہ پیش کرتے ہوئے یہ بتایا کہ یہ کتابچے صد سالہ جشن تشکر کے موقع پر سوز بانوں میں طبع کروا کے ساری دنیا میں تقسیم کئے گئے ہیں۔عزت مآب گورنر جنرل نے بڑی خوشی کا اظہار فرمایا۔مکرم ناظم اعلیٰ صاحب نے اپنے سکول میں عید پارٹی کا اہتمام کیا اور مذکورہ بالا دونوں کتا بچے اپنے سٹاف کے ہر ممبر کو بطور تحفہ دیئے۔بعد ازاں ایک سٹاف ممبر عیسائی خاتون نے احمدیت کے بارہ میں سوالات پوچھے۔خدمت خلق کے ضمن میں عید کے موقع پر جماعتی انتظام کے تحت مجالس نے ملک کے سارے ہسپتالوں،