تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 47 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 47

۴۷ آپ کو جب یہ کہا جاتا ہے کہ ایک گاؤں اپنے ساتھ فتح کر لیں تو کتنی چھوٹی بات ہے۔آپ کو تو یہ کہنا چاہئیے کہ تم یہ کیا بات کر رہے ہو۔ابھی کہتے تھے کہ محمد مصطفے " کے غلام۔اتنے بڑے بڑے خطاب دے رہے تھے اور اب کام کیا دیا ہے کہ جی ایک گاؤں فتح کرلو۔آغاز حیثیت اور توفیق کے مطابق کریں میں نے عرض کیا ہے کہ اس لئے میں مجبور ہوں یہ کہنے پر کہ خدا کی تعلیم مجھے مجبور کر رہی ہے کہ آغاز حیثیت کے مطابق اور توفیق کے مطابق کراؤں۔لیکن انجام یہی ہے جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا نے دکھایا تھا کہ روس کا عصا آپ کے ہاتھوں میں تھمایا گیا۔اس وقت احمدیت کی کمزوری روس کے مقابل پر اس سے بہت زیادہ عیاں تھی۔اور عصا کے معنے کیا ہیں۔ظاہری حکومت کا غلبہ؟ نہیں۔کیا معنے ہیں؟۔آپ فرماتے ہیں خدا نے مجھے دکھایا ہے کہ میں روس میں ریت کے ذروں کی طرح مسلمانوں کو پھیلا ہوا دیکھتا ہوں۔یہ وہ روحانی غلبہ ہے، وہ قوت کا عصا یعنی روحانی قوت کا عصا۔ہم تو دنیا کے بندے نہیں ہیں۔ہم تو روحانی دنیا کے انسان ہیں۔اس لئے اتنے بڑے حوصلے والے آقا اور اتنے بڑے حوصلے والے غلام کی طرف منسوب ہو کر آپ کو یہ حق ہر گز نہیں پہنچتا کہ کہیں بڑا کام سپر د کیا جا رہا ہے۔یہ شکوہ کرنے کا شائد حق ہو کہ چھوٹا کام دے رہے ہو۔اس لئے جو چھوٹا سمجھتے ہیں شوق سے بڑا کر کے دکھا ئیں۔ایک نہیں ، دس کا ٹارگٹ بنا لیجئے۔دس نہیں ہزار کا ٹارگٹ بنالیں۔مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا مگر کم سے کم ایک گاؤں کو اگلے سال کے اندر انشاء اللہ روحانی فتح کے ذریعہ تسخیر کرنا ہے اللہ کے فضل کے ساتھ۔آپ کی رپورٹوں میں ہمیشہ یہ واضح ذکر ہونا چاہیئے کہ آپ کی مجالس اس طرح بھی بڑھ رہی ہیں کہ مجلس انصاراللہ نے اس سال اتنی نئی مجالس انصار اللہ تبلیغ کے ذریعہ پیدا کر دی ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ہمیشہ کامل غلامی کے ساتھ خلافت کی اطاعت کا عہد کریں اس کے بعد آخری بات میں یہ عرض کروں گا کہ ہمارے عہد میں ایک چیز شامل ہے خلافت سے وابستگی۔میں آپ کو خوب کھول کر بتانا چاہتا ہوں کہ گناہ کبیرہ جو انسان یعنی فرد کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں، وہ اپنی جگہ پر خطرناک ہیں۔میرا تجربہ ہے جماعت کے ان لوگوں پر نظر ڈال کر جنہوں نے خلافت کے معاملے میں بے ادبی اور گستاخی کی کہ بڑے بڑے گناہ والے بھی نیک انجام پاگئے لیکن خلافت کے خلاف بے ادبی کرنے والوں کا کبھی میں نے نیک انجام ہوتے نہیں دیکھا۔وہ بھی تباہ ہوئے اور ان کی اولادیں بھی تباہ ہوئیں۔کیوں ایسا ہوتا ہے؟ اس لئے کہ خلافت وہ خدائی رسی ہے جس