تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 46
۴۶ ساری دنیا مخالف۔حوصلہ یہ ہے کہ ساری دنیا کا میں نبی ہوں۔اربعے میں کمپیوٹر میں ان باتوں کو ڈالیں تو یہ بات ہو ہی نہیں سکتی۔لیکن پہلے دن سے لے کر آخر تک کامل یقین ہے اس بات پر اور یہ یقین کامل ہی ہے جو دعاؤں میں بھی مزید تقویت پیدا کیا کرتا ہے اور عمل کو بھی طاقت بخشا کرتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مثال پکڑنی چاہئیے۔ایک مبلغ کو اور حوصلہ بلند رکھنا چاہیئے۔یہ نہیں کہنا چاہئیے کہ یہ کس طرح ہوسکتا ہے۔کل آپ کے سامنے رسول اکرم کی مثال پیش کی گئی تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت فرما رہے تھے۔کمزوری کا دنیا کی نظر کے لحاظ سے یہ عالم تھا کہ اپنے شہر نے شہر بدر کر دیا ہے۔قتل کا آخری اور حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔وہاں زندگی کے سانس لینا دوبھر ہو چکا ہے اور چھپ کر نکل رہے ہیں وہاں سے۔اس حالت میں ایک قاتل وہاں پہنچتا ہے۔جس کے بدارا دے ہیں۔ہاتھ میں نیزہ اور تلوار ہے۔لیکن خدا کی تقدیر اس حملہ آور کو مغلوب کر کے جب آپ کے سامنے پیش کرتی ہے تو کیا آپ جانتے ہیں۔اس حالت میں حضور کے حو صلے اور اپنی فتح پر یقین کا کیا عالم تھا؟ آپ نے فرمایا تمہارا اس وقت کیا حال ہو گا جب کسری کے کنگن تمہارے ہاتھ میں پہنائے جارہے ہوں گے۔مظلومی اور کمزوری اور ناطاقتی کی اس سے زیادہ مثال کیا ہوسکتی ہے جو رسول اللہ کی اس وقت تھی۔پھر اس پر عزم اور حوصلے کی بلندی کا عالم بھی دیکھئے !۔اس وقت جو روس کو طاقت حاصل ہے ہندوستان کے مقابل پر اور پاکستان کے مقابل پر۔اور امریکہ کو جو طاقت حاصل ہے پاکستان اور ہندوستان کے مقابل پر بلکہ اس سارے خطہ کے مقابل پر۔عرب کی حالت قیصر کے مقابلہ میں اس سے بھی زیادہ کمزور تھی۔عرب کا تو شمار ہی نہیں تھا متمدن ممالک میں ترقی پذیر بھی نہیں کہلا رہا تھا۔آپ تو پھر ترقی پذیر کہلا رہے ہیں۔آج اگر کوئی یہاں کھڑے ہو کر کہے کہ روس کی کنجیاں مجھے پکڑائی جارہی ہیں اور امریکہ محمد مصطفے کے غلاموں میں داخل ہو رہا ہے تو یہ بھی اتنی بڑی بات نہیں جتنی اس وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی۔جب آپ خندق کھود رہے تھے اور ایک پتھر سے آپ کا پھاوڑا لگا۔جب اس سے چنگارا نکلا تو آپ نے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا۔آپ نے فرمایا۔خدا نے مجھے اس شعلہ میں کسریٰ کی حکومت اور اس کے محلوں کی چابی دکھائی ہے۔پھر دوبارہ پھاوڑا چلایا۔پھر اس میں سے شعلہ بلند ہوا۔پھر آنحضور نے اللہ اکبر کا نعرہ بلند فرمایا اور آپ نے فرمایا کہ قیصر کی چابی بھی اللہ تعالیٰ نے مجھے دکھا دی۔مشرق و مغرب کی فتح کی باتیں وہ وجود کر رہا ہے جو اپنی حفاظت کے لئے خندق کھودرہا ہے۔اور حالت یہ ہے کہ بھوک سے باقیوں کے پیٹ میں ایک پتھر بندھا ہوا تھا۔آپ کے پیٹ پر دو پتھر بندھے ہوئے تھے۔اس لئے