تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 446
پہنچائی ہے کہ میں اس موقعہ پر آپ کے نام پیغام بھجواؤں۔میرا آپ کے نام پیغام یہ ہے کہ بحیثیت رکن مجلس انصار اللہ آپ پر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں آپ انہیں ہمیشہ پیش نظر رکھیں۔اراکین مجلس انصار اللہ سے جن ذمہ داریوں کی توقع کی جاتی ہے اس کی نشان دہی اس امر سے ہوتی ہے اور یہ وہ عمر ہے جس سے روحانی بلوغت کا آغاز ہوتا ہے پس یہ امراراکین مجلس انصاراللہ کو ان کی اس نہایت اہم اور بنیادی ذمہ داری کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ وہ دعاؤں اور انابت الی اللہ کے ذریعہ خدا تعالیٰ کے ساتھ اپنے ذاتی تعلق کو زیادہ سے زیادہ مضبوط بنانے کے لئے کوشاں رہیں۔خدا تعالیٰ کے احکام اور اس کے رسول حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ ان کے ہمیشہ پیش نظر رہے۔محبت الہی اور عشق رسول ان کی روح کی غذا ہو۔ایک اور امر جس کی طرف میں ماریشس کے انصار بھائیوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ارشاد خداوندی ہے۔بلّغ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ اس ارشادربانی کے مخاطب صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی نہیں بلکہ آپ کی امت کا ہر فرد بھی اس کا مخاطب ہے اور اس پر یہ فرض کیا گیا ہے کہ وہ کلام الہی کو دوسروں تک پہنچائے۔اس زمانہ میں کلام الہی کی اشاعت اور تبلیغ کا کام اللہ تعالیٰ نے جماعت احمد یہ کے سپرد کیا ہے پس جماعت کے ہر فرد اور خصوصاً انصار پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس فریضہ تبلیغ کو پوری دیانتداری اور ذمہ داری کے ساتھ ادا کر کے جہاد میں بھر پور حصہ لیں اور ہماری جماعت نے ہر فرد سے یہ توقع کی ہے کہ وہ سال میں کم از کم ایک فرد کو ضرور احمدی بنائے۔اگر آپ میں سے ہر ایک اس ہدایت کے مطابق عمل پیرا ہو تو مستقبل قریب میں احمدیت کے حق میں ایک زبر دست روحانی انقلاب رونما ہو سکتا ہے۔میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو تو فیق عطا فرمائے کہ آپ میں سے ہر ایک کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ گہرا ذاتی تعلق پیدا ہو اور آپ اپنے ہم وطنوں کو بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملانے کا ذریعہ بنیں۔آمین آخر میں ماریشس کے خصوصی حالات کے پیش نظر میں خصوصی طور پر مجلس انصار اللہ سے درخواست کرتا ہوں کہ کتاب کشتی نوح کے ان اقتباسات کا جو ہماری تعلیم کے نام سے شائع ہو چکے ہیں، خود بھی بار بار مطالعہ فرما ئیں اور اپنے بچوں کو بھی اور مستورات کو مطالعہ کروائیں اور ان نصائح کو حرز جان بنالیں۔(۱۲)