تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 422 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 422

۴۲۲ اور دیانتداری سے اس پر عملدرآمد کی کوشش کی ، اللہ تعالیٰ اُسے اس عہد کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرماتا ہے اور آئندہ بھی فرماتا رہے گا۔آخر پر یہ عرض کروں گا کہ ہر نمبر انصاراللہ، اللہ تعالیٰ سے ذاتی پیوند جوڑے۔اللہ تعالیٰ سے زندہ تعلق قائم کئے بغیر ہر عمل بے نور اور بے جان رہتا ہے جیسے کوئی انسانوں کے بت بنانے والا یہ سمجھنے لگے کہ میں انسان بنارہا ہوں۔ہمارے اعمال مٹی کے بہت ہی تو ہیں اگر اللہ کے اذن سے ان میں نفخ روح نہ ہو۔پس خدا تعالیٰ کو دوست پکڑیں اور جو کچھ کریں اس کی رضا کی خاطر کریں اور بندے کے تصور کو بیچ سے نکال دیں۔خدا تعالیٰ آپ کے ساتھ ہوا اور ہمیشہ اس کے قرب میں اس کی رحمت کے سائے تلے رہیں۔افتتاحی خطاب نائب صدر مجلس انصار الله انگلستان مکرم مولانا شیخ مبارک احمد صاحب نے قرآن مجید کی آیت وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِيْنَ کی تلاوت فرمائی اور فرمایا کہ ذکر کے معنی ہیں بار بار یاد دہانی کرانا کیونکہ ایسی یاد دہانی مومنوں کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ہمیں بھی جب بار بار نیکی کی یاد دہانی کرائی جائے گی تو انشاء اللہ ہمارے اندر بھی ایک قوت پیدا ہوگی جس سے ہم اسلام کے سچے نمونے بن سکیں گے۔یاددہانی کرانا خدا تعالیٰ کا فرمان ہے اور اسی وجہ سے بار باراجتماعات منعقد کئے جاتے ہیں۔ابھی آپ نے مکرم صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب صدر مجلس کا قیمتی نصائح سے بھر پور پیغام سنا۔اس کے بعد کسی لمبی چوڑی افتتاحی تقریر کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔میں صرف یہ گزارش کروں گا کہ آپ اس پیغام پر عمل پیرا ہونے کی کوشش فرمائیں۔خطاب نائب صدر صاحب مجلس مرکز یہ مکرم چوہدری حیداللہ صاحب نائب صدر مجلس نے حضرت خلیفہ مسیح الثالث کا سلام سب احباب تک پہنچایا اور پھر فرمایا کہ ہماری جماعت کے اندر اجتماعات اور جلسوں کا جو سلسلہ جاری ہے، ان کی غرض و غایت یہی ہوتی ہے کہ بار بار نیک کاموں کی طرف یاددہانی کرائی جائے کیونکہ انسان فطرتا یاد دہانی کا محتاج ہے۔آپ نے فرمایا کہ ہماری جماعت کے اندر ذیلی تنظیمیں یعنی انصار اللہ ، خدام الاحمدیہ، لجنہ اماءاللہ وغیرہ اس لئے بنائی گئی ہیں کہ وہ جو باتیں جماعت ان کے سامنے پیش کرے، ان کو آگے پھیلائے اور ان کے مطابق اپنے پروگرام بنائے نیز اس بات کا ریکارڈ بھی رکھے کہ کون کون افرادان پر کس حد تک عمل کر رہے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ سب سے ضروری امر نماز با جماعت کی ادائیگی ہے اور اس بارہ میں ان ذیلی تنظیموں کو خصوصی اور افراد جماعت کو عموماً کوئی غفلت نہیں کرنی چاہیئے۔لہذا میری درخواست ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے فضل