تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 388
۳۸۸ برکت رہتی ہے ، نہ جان میں، نہ اولاد میں۔پس ایسی بے شمر زندگی بھی کیا زندگی ہے جسے خدا تعالیٰ کی طرف سے برکت عطا نہ ہو۔زعماء سے خطاب جاری رکھتے ہوئے صدر محترم نے نگران حلقہ جات کے فرائض کی نشان دہی کرتے ہوئے فرمایا کہ نگران حلقہ اس لئے مقرر کئے جاتے ہیں کہ مرکز کی نمائندگی کا حق ادا کریں اور جو امور چھان بین کے لائق ہوں، موقع پر پہنچ کر ان کی تحقیق کریں۔لیکن اگر نگران حلقہ فرضی رپورٹوں کو وصول کر کے اسی طرح آگے مرکز کو ارسال کر دیں تو پھر تو وہ محض ڈاکیہ کا کام سرانجام دے رہے ہوں گے۔اگر آپ نگران حلقہ ہیں یا زعیم اعلیٰ یا ناظم ضلع ہیں تو آپ کا فرض ہے کہ مجالس اور زعماء کے کام کی نگرانی کریں۔جو کوائف نیچے سے آئیں ان کی پڑتال کریں که آیا بنیادی کوائف مبنی بر حقیقت ہیں یا نہیں۔صدر محترم نے فرمایا یہ سارا بنیادی اہمیت کا کام ہے۔اس کو تکمیل تک پہنچانے کے لئے ضروری ہے کہ ٹیم ورک ہو۔اپنے مددگار بنا ئیں۔کام ترتیب سے اور بانٹ کر کریں۔اسی طریق کار کے فقدان سے ایک بھاری نقص پیدا ہوتا ہے اور یہ نقص آپ کے ضلع میں بہت نمایاں ہے۔صدر محترم نے فرمایا یہ امر لازمی ہے کہ مرکز کی ہدایات آگے مجالس اور ممبران مجالس تک بر وقت پہنچائی جائیں اور انہیں امانت سمجھ کر آگے پہنچایا جائے۔عہد یدار چھوٹے ہوں یا بڑے، سب امین ہیں۔اگر آپ مرکز کی ہدایات آگے نہیں پہنچاتے تو امانت میں خیانت کے مرتکب ہوں گے۔لہذا از عماء کی جواب طلبی سے قبل اس بات کی ضمانت حاصل کرنا ضروری ہے کہ مرکزی لائحہ عمل سب ممبران مجالس تک پہنچ چکا ہے یا نہیں؟ صدر محترم نے فرمایا کہ انصار جماعت کا ایک ایسا حصہ ہیں جو اپنی عمر، اثر ورسوخ، ذمہ داری اور تجربہ کی بناء پر خدمت دین کے لحاظ سے جماعت کی صف اول شمار ہونے چاہئیں لیکن افسوس کہ ضلع سیالکوٹ میں صورتِ حال برعکس نظر آتی ہے اور باوجود اس کے کہ بہت ہی مخلص اور وقت کی قربانی دینے والے دعا گو بزرگ آپ کے ضلع کے ناظم انصار اللہ ہیں لیکن بحیثیت مجلس یہ ضلع بہت پیچھے ہے۔یہ امر قابل غور ہے۔اللہ تعالیٰ بالعموم چالیس سال سے اوپر کی عمر والوں کو نبوت سے سرفراز فرما تا آیا ہے اور ان پر ذمہ داریوں کا سب سے زیادہ بوجھ ڈالتا ہے۔وجہ یہی ہے کہ الا ماشاء اللہ پختگی اور سنجیدگی سے ٹھوس کام کی صلاحیت اس عمر میں پیدا ہوتی ہے اس لئے آپ جماعتی نظام میں اپنی اس اہم مرکزی حیثیت کو سمجھیں اور یہ امر ہمیشہ پیش نظر رہے کہ اگر آپ سرگرم عمل ہوں گے اور پورے جوش اور لگن کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو ادا کریں گے تو انشاء اللہ تعالی آپ کی اگلی نسل بھی سرگرم عمل رہے گی اور ان کے حسنِ عمل کا ثواب آپ کو بھی پہنچتارہے گا۔خطاب جاری رکھتے ہوئے صدر محترم نے مزید فرمایا کہ نبی نوع انسان کی خدمت اور نگرانی کا حق شعبہ