تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 15
۱۵ حالت کے مشابہ ہے جو سات بالیں اُگائے ( اور ) ہر بالی میں سودا نہ ہو۔اور اللہ جس کے لئے چاہتا ہے (اس سے بھی ) بڑھا ( بڑھا کر دیتا ہے۔اور اللہ و سعت دینے والا ( اور ) بہت جانے والا ہے۔انصار اللہ کی تنظیم کے ذمہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے نہایت اہم اور معین فرائض سونپے ہیں۔اس تنظیم کا ایک بہت اعلیٰ مقصد ہے۔ظاہر ہے کوئی بھی مقصد ہو مالی قربانی کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا۔اس کی افادیت ، اہمیت اور یہ کہ انصار اللہ کس طرح ترقی کی راہ پر گامزن رہ سکتی ہے اس کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضور ا صلح الموعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ” جب تک انصار اللہ اپنی ترقی کے لئے صحیح طریق اختیار نہیں کریں گے۔اُس وقت تک انہیں اپنے مقصد میں کامیابی حاصل نہیں ہوگی مثلاً میں نے انہیں توجہ دلائی تھی کہ وہ اپنے کام کی توسیع کے لئے روپیہ جمع کریں اور اُسے مناسب اور ضروری کاموں پر خرچ کریں۔“ ( خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۲ اکتوبر ۱۹۴۴ء) خاکسارا راکین مجالس سے درخواست کرتا ہے کہ وہ حضور کے اس ارشاد بالا پر غورفرما ئیں اور پھر اس کے لمصل مطابق عمل کریں تا کہ وہ مقاصد میں حاصل ہو جائیں جن کے لئے مجلس انصاراللہ قائم کی گئی۔سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اراکین انصار اللہ کی چندہ مجلس کی شرح میں۔اضافہ کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: رب سے تعلق کی پختگی صرف جوانی کی عمر سے تعلق نہیں رکھتی بلکہ انصار اللہ کی عمر سے بھی تعلق رکھتی ہے۔۔۔خلیفہ وقت کا کام سہارا دینا بھی ہے اس لئے میں نے سہارا دے دیا اور میں نے انصار اللہ کے چندہ کی شرح نصف پیسہ سے بڑھا کر پیسہ کر دی ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو اور مجھے سب کو توفیق دے۔اللہ تعالیٰ بڑے فضل کر رہا ہے لیکن میں کہتا ہوں انصار اللہ والے کیوں مایوس ہو جائیں کہ اللہ تعالیٰ ہم پر فضل نہیں کرے گا۔دھیلہ سے پیسہ کریں۔اللہ تعالیٰ آپ کے مال میں بھی برکت (خطبہ جمعہ فرموده ۱۹ نومبر ۱۹۷۶ء) دے گا۔“ سیدنا حضرت خلیفہ امسیح الثانی رضی اللہ عنہ اور سیدنا حضرت خلیفہ امسح الثالث ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز کے ان ارشادات سے یہ پوری طرح واضح ہے کہ ذیلی تنظیموں میں رکنیت اور چندے کی ادائیگی ضروری ہے۔اس لئے خاکسار اپنے تمام بھائیوں سے درخواست کرتا ہے کہ وہ اپنے پیارے امام کی آواز پر لبیک اللهم لبیک کہتے ہوئے ہر مالی تحریک اور تنظیم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔اپنے چندے اپنی آمدنی کے مطابق با شرح ادا فرمائیں کیونکہ اسی میں برکت ہے۔جیسا کہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا ہے دھیلہ سے پیسہ کریں۔اللہ تعالیٰ آپ کے مال میں بھی برکت دے گا۔“