تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 321 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 321

۳۲۱ قائم کرنے کی تلقین کریں۔کامل خلوص اور راستی کے ساتھ حق عبادت ادا کریں اور وہ انعامات حاصل کریں جن کا ذکر سورہ فاتحہ میں موجود ہے۔یہ فوائد اس طرح حاصل ہو سکتے ہیں کہ ہم خدا تعالیٰ کی عبادت کریں۔عبادت کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ انعام دیتا ہے۔جب تک نئے احمدی سورہ فاتحہ میں مذکور انعامات کا مزا خود نہیں چکھتے ، وہ احمدیت کی اصل قدر نہیں پہچان سکتے۔عبادت کے نتیجہ میں ان کی پیشانیوں سے ظاہر ہوگا کہ وہ خدا کے بندے ہیں۔آپ ان انعاموں کی طرف توجہ کریں کیونکہ انعاموں کی راہ ہی صراط مستقیم ہے۔اس سلسلے میں آپ نے ایک یورپین نو مسلم کا ایمان افروز واقعہ بیان فرمایا۔صدر محترم نے توجہ دلائی کہ پیدائشی احمدیوں پر بڑی بھاری ذمہ داری ہے کہ نئے آنے والوں کی تربیت کے لئے نیک نمونہ دکھا ئیں ، ان کی تربیت کا خیال رکھیں اور ان سے ہمدردی کا تعلق پیدا کریں۔انہوں نے بہت مصیبتیں جھیلیں ہیں۔خاندان چھوڑا ، نوکری سے ہٹائے گئے۔اب یہ آپ کا کام ہے کہ ان کو بتائیں کہ جو کچھ چھوڑ کر آپ آئے ہیں، اس سے کروڑ گنا زیادہ اللہ تعالیٰ دے گا۔آپ نے فرمایا کہ کثرت کے ساتھ اپنے رب سے تعلق قائم کریں۔نماز با جماعت کو اہمیت دیں۔کوئی عبادت قبول نہیں ہو سکتی جب تک خدا تعالیٰ سے تعلق قائم نہ ہو۔جن کا تعلق خدا تعالیٰ سے ہو، ان کے چہروں اور پیشانیوں سے خدا کا نور ظاہر ہوتا ہے اور وہ خدا تعالیٰ کے انعامات کے وارث ہوتے ہیں۔جمعہ کے بعد بیت الحمد میں ہی ساڑھے تین سے ساڑھے پانچ بجے تک سوال و جواب کی محفل ہوئی جس میں غیر از جماعت احباب نے بھی شرکت کی۔محترم صاحبزادہ صاحب نے نہایت مؤثر اور مدلل جوابات دیئے۔شام کو پونے چھ بجے سے آٹھ بجے تک صدر محترم نے مکرم امیر صاحب ضلع کی رہائش گاہ پر سوال و جواب کی نشست میں شرکت کی جس میں پندرہ غیر از جماعت وکلاء بھی شامل تھے۔آٹھ بجے مکرم چوہدری محمد رمضان صاحب راحت جیولرز کی رہائش گاہ پر چند صحافیوں کے ساتھ حضرت صاحبزادہ صاحب کا تبادلہ خیال ہوا۔طعام کے بعد ساڑھے نو بجے رات آپ ربوہ تشریف لے گئے۔(۴) دورہ سرگودھا مورخہ ۱۳ مارچ ۱۹۷۹ء گیارہ بجے سے دو بجے بعد دو پہر تک مجالس ضلع سرگودھا کے زعماء کا ایک اجلاس جامع مسجد سرگودھا میں منعقد ہوا جو مرکزی ہدایت پر بلایا گیا تھا۔صدر محترم کے ہمراہ نائب صدر صف دوم مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب اور مکرم ملک حبیب الرحمان صاحب قائد عمومی شامل ہوئے۔تمام زعماء سے جن کی تعداد تقریباً ساٹھ تھی ، کوائف دریافت فرمائے۔ماہانہ اجتماعات اور تبلیغ اور تربیت کے متعلق کوائف تسلی بخش نہ پا کر صدر محترم نے فرمایا کہ جس کام کا جائزہ لیا گیا ہے اس میں آپ کا میاب نہیں ہو سکے۔آپ کی مجلس کی مثال ایک