تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 232
۲۳۲ اور مہمان نواز غیر از جماعت دوست مکرم سید غلام حسین صاحب آف تقی آباد کے ہاں قیام کیا۔ان کا ڈیرہ بھوانہ سے دس بارہ میں پہلے آتا ہے۔بفضل اللہ تعالیٰ باسٹھ سال سے تجاوز کر چکا ہوں۔الحمد للہ صحت اچھی ہے۔اللہ تعالیٰ نے چاہا اور توفیق ملی تو انشاء اللہ آئندہ بھی اجتماع کے موقع پر سائیکل پر ربوہ آنے کا بہت شوق ہے۔متعدد دوستوں سے ملنے کا موقع ملا۔کبھی کسی کے دریافت کرنے پر کہاں سے آ رہے ہو کہاں جاؤ گے، انہیں بتایا گیا کہ لیہ سے ربوہ جا رہا ہوں۔میرے بڑھاپے اور طویل سفر کے متعلق حیرت کا اظہار کیا جاتا بلکہ بہت حد تک ہمدردی کا بھی اظہار ہوتا۔پورے سفر میں خاکسار نے کسی کی زبان سے ناگوار لفظ نہیں سنا۔جھنگ شہر کے باہر برلب سڑک قدیمی مسجد احمد یہ ہے جس کی دیوار پر جلی حروف میں وہ پیشوا ہمارا جس سے ہے نو را سارا۔نام اُس کا ہے محمد دلبر مرا یہی ہے“ لکھا ہوا ہے۔یہاں پہنچ کر خاکسار کو شدید پیاس لگی تھی۔مسجد سے ملحق ایک مکان جس کے متعلق میرا خیال تھا کہ کسی احمدی بھائی کا گھر ہوگا ، خاکسار نے پانی طلب کیا۔صاحب خانہ نے خاکسار کو بیٹھک میں بٹھایا اور میرے سفر کے بارے میں دریافت کیا۔جب خاکسار نے انہیں بتایا کہ بندہ سائیکل پر ربوہ جارہا ہے تو بہت حیران ہوئے اور خوشی کا بھی اظہار فرمایا۔یہ دوست غیر از جماعت ایک زرگر ہیں اور ان کا مکان احمد یہ مسجد سے مشرق میں ملحق ہے۔پون گھنٹہ تک ان سے نہایت خوشگوار ماحول میں تبادلہ خیالات ہوتا رہا۔انہوں نے نہ صرف پانی پلایا بلکہ چائے بھی پلائی اور کھانے کی بھی پُر زور پیشکش فرمائی۔اس وقت وہ اس قدر متاثر تھے جو بیان سے باہر ہے۔خاکسار نے انہیں جلسہ سالانہ پر آنے کی دعوت دی جو انہوں نے بخوشی قبول فرمائی اور مجھ سے بار بار واپسی پر آنے کا وعدہ لیا۔مجھے کامل امید ہے کہ یہ دوست انشاء اللہ جلسہ سالانہ پر ضرور تشریف لائیں گے۔دوسری جگہ ایک غیر از جماعت معزز رئیس سید غلام حسین صاحب کے ڈیرے پر رات کو قیام کرنے کا اتفاق ہوا۔یہ بزرگ عمر رسیدہ ہیں۔باوقار شخصیت کے مالک ہیں۔عشاء کے وقت ناچیز بلا تکلف ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور رات بسر کرنے کی درخواست کی۔سید صاحب موصوف کے دریافت فرمانے پر جب خاکسار نے بتایا کہ ربوہ جارہا ہوں ، بہت تکریم سے پیش آئے اور نہایت اچھا کھانا کھلایا۔شاندار بستر دیا اور صبح کو نہایت عمدہ ناشتہ دیا۔ربوہ آ کر خاکسار نے ان کی خدمت میں شکریہ کا خط تحریر کیا۔راستے میں سائیکل خراب ہو گیا۔کم و بیش خاکسار کو بیس بائیس میل پیدل بھی چلنا پڑا۔تقی آباد پہنچنے سے قبل بھی ایک راہ گیر کے ساتھ پیدل چلتے ہوئے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بھی جلسہ سالانہ پر ربوہ آنے کا وعدہ کیا۔الحمد للہ سفر کے دوران ذکر الہی اور دعائیں کرنے کا خوب موقع ملا۔نا چیز ۲۲ اکتوبر کی شام کو ربوہ پہنچا تھا۔بفضل تعالیٰ خدام الاحمدیہ کے اجتماع کی ساری کارروائی سے بھی خاکسار نے استفادہ کیا اور اس کے بعد انصار اللہ کے اجتماع سے بھی خوب فائدہ اٹھایا۔اللہ تعالیٰ آئندہ سال بھی خاکسار کو سائیکل پر اجتماع میں شمولیت کی تو فیق عطا فرمائے۔﴿۴﴾