تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 205
۲۰۵ جاری ہے، اس کے مطابق ہی ملا کرتی ہے۔رفتہ رفتہ ہی توفیق ملا کرتی ہے۔تو جو اندازہ تھا کہ دو چار سال میں پھل نکلے گا اس سے بہت پہلے خدا کے فضل سے پھل نکلنا شروع ہو گیا۔اس پر وہی مثال یاد آگئی کہ ایک بادشاہ نے ایک بوڑھے سے سوال کیا تھا کہ یہ جو تم آج کھجور کے درخت لگارہے ہو اس کا پھل تو تمہارے مرنے کے بعد پیدا ہونا ہے۔دیوانے ! تم نے یہ کیا سلسلہ شروع کر رکھا ہے؟ اس نے کہا بادشاہ سلامت! دیوانہ نہیں ہوں۔میں نے ان کا پھل کھایا جو مر چکے۔وہ لگا کر ہمارے لئے چھوڑ گئے تھے۔اگلے آئیں گے تو میرے ہاتھ کا لگایا ہوا پھل کھائیں گے۔اس طرح ایک نسل کے احسان کا بدلہ دوسری نسل کو ادا کیا جاتا ہے۔بادشاہ کے منہ سے بے اختیار ز ہ نکل گیا کہ کیا خوب۔اور اپنے وزیر کو اس نے حکم دے رکھا تھا کہ جب میں زہ کہہ دوں تو ایک ہزار اشرفیوں کی تھیلی اس کو فوراً پکڑا دیا کرو جس سے خوش ہو کر میں نے زہ کہا ہو۔وہ تھیلیاں بادشاہ کے ساتھ رہا کرتی تھیں۔اس نے فوراً ایک ہزار اشرفیوں کی تھیلی اس بڑھے کو پکڑا دی۔بڈھے نے آگے سے کہا بادشاہ سلامت! آپ تو کہتے تھے کہ یہ درخت میرے مرنے کے بعد پھل دیں گے۔انہوں نے تو میری زندگی میں ابھی پھل دے دیا۔بادشاہ نے کہا زہ تو وزیر نے دوبارہ اسے تھیلی پکڑا دی۔اس نے کہا بادشاہ سلامت ! میں یہ عجیب واقعہ دیکھ رہا ہوں کہ لوگوں کی کھجوریں تو سال میں ایک دفعہ پھل دیتی ہیں میری کھجوروں نے تو دو دفعہ پھل دے دیا۔بادشاہ نے کہا زہ۔جب وزیر تھیلی پکڑا رہا تھا تو اس نے کہا یہاں سے چلو ورنہ یہ بڑھا ہمارے سارے خزانے خالی کر دے گا۔پس آپ بھی ان نعمتوں پر اپنے خدا کا اس طرح شکر ادا کریں کہ خدا کے منہ سے ہمارے لئے زہ نکلے اور ہم بے انتہا رحمتوں اور فضلوں کے وارث بنتے چلے جائیں۔یہ وہ بادشاہ ہے جس کے خزانے کبھی خالی نہیں ہو سکتے جو اس جگہ کو چھوڑ کر کبھی دوسری جگہ نہیں جایا کرتا ، جہاں اس کے بندے شکر گزار ہوں۔وہاں فرشتے ڈیرے ڈال دیا کرتے ہیں۔وہاں 'زہ کی بارش ہونے لگتی ہے۔شکر ادا کرنے والا دل مانگنا چاہئیے حضرت خلیفتہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ نے جو تھوڑی تھوڑی تحریکات شروع کیں وہ اتنی پھیلیں اور ان میں اتنی برکت پڑی۔وہ کس طرح پڑی؟ اس لئے کہ آپ شکر کرنے والا دل رکھتے ہیں۔بظاہر ایک چھوٹا سا واقعہ بھی ہوتا تھا تو اللہ تعالیٰ کے احسانوں کا بے حد ذ کر کر کے ساری جماعت کو سناتے تھے اور بار بار خدا کی طرف سے زہ زہ کی آواز میں بلند ہوتی تھیں اور فرشتے تعمیل حکیم ربی میں رحمتوں کے اور خزانے کھولتے جاتے تھے اور کھولتے چلے جارہے ہیں اور ہمیشہ کھولتے چلے جائیں گے۔