تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 202 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 202

ہو۔جو دشمنی ہو وہ تیری رضا کی خاطر ان سے ہو جو تیرے دشمن ہیں اور ہمیں تو فیق عطا فرما۔ہم بے بس ہیں علم کے لحاظ سے، قوت قدسیہ کے لحاظ سے اور بہت سی کمزوریاں ہمارے ساتھ لاحق ہیں جن کی وجہ سے ہم کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ہمیں توفیق عطا فرما۔اپنے فضل سے ہمارے تھوڑے میں بہت برکت ڈال اور اس چین کے ساتھ ہم آنکھیں بند کر رہے ہوں کہ اپنے پیچھے احمدیت کے بہت ہی نیک پاک اور عمدہ رہنے والے البقیت الصلحت کے نمونے چھوڑ رہے ہوں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔بیرونی ممالک میں بفضلہ تعالیٰ بیداری کی لہر پیدا ہورہی ہے دوسری بات میں شعبہ بیرون سے متعلق عرض کرنی چاہتا ہوں۔خدا تعالیٰ کے فضل سے اس سال شعبہ بیرون میں ہمیں بہت ہی نمایاں کامیابیاں عطا ہوئی ہیں۔اس وقت تفصیل سے جائزہ پڑھنے کا تو وقت نہیں ہے۔وہ انشاء اللہ شائع کر دیا جائے گا۔مقابلہ جو ہے ہمارے اپنے پچھلے سالوں سے ، وہ اتنا ہے کہ انسان کی رُوح بے حد شکر کے ساتھ خدا کے آستانہ پر جھک جاتی ہے۔زمین و آسمان کا فرق پڑ چکا ہے، پچھلے ایک سال میں۔اس کی ایک وجہ تو مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب کا دورہ بھی ہے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے انہوں نے بڑی محنت سے کام کیا۔اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے۔دوسرے عمومی بیداری کی خدا کی طرف سے ایک لہر چل رہی ہے۔اس میں ہمارا کوئی اختیار نہیں ہے۔مثلاً انڈونیشیا کا تو کسی نے دورہ نہیں کیا تھا، نائیجیریا کا تو کسی نے دورہ نہیں کیا تھا، مگر ان کی کیفیتیں اتنی بدل گئی ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔انڈونیشیا سے جو بجٹ موصول ہوا ہے بغیر کسی دورے کے، وہ پاکستانی روپوں میں ڈیڑھ لاکھ کے قریب بنتا ہے اور ان کی ستر کے قریب مجالس میں سے ابھی صرف چودہ کا بجٹ موصول ہوا ہے۔باقی سب کا موصول ہونے والا ہے تو اس سے آپ اندازہ کریں کہ کس طرح دنیا میں خدا کے فرشتے احمدیت کے دیوانوں کو جگا رہے ہیں۔ہشیار کر رہے ہیں اور لائحہ عمل کے نئے میدانوں میں کودنے کے لئے تیار کر رہے ہیں۔اس لحاظ سے ہم پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ایک تو یہ کہ تحریک جدید کا شعبہ انصار کے سپر د جس حد تک ہے، اس میں اپنی ذمہ داری کو ادا کریں تا کہ بیرونی دنیا کا حق ادا کر سکیں جس حد تک بھی ہماری توفیق ہو۔بہت دعائیں کریں باہر جانے والوں کے لئے دوسرے دعائیں بہت کریں باہر جانے والوں کے لئے ، باہر جانے والوں سے مراد یہ ہے کہ جو احمدی ہمارے رشتہ داروں میں سے ، ہمارے عزیزوں میں سے باہر جاتے ہیں وہ ہمارے ماحول سے نکل کر باہر پہنچتے ہیں اور وہاں احمدیت کے ایمبسیڈر ، سفیر بن جاتے ہیں۔جس حد تک وہ عدم