تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 201 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 201

۲۰۱ ان کی پسند کے مطابق کی تقریریں ہیں۔حالانکہ بہت ہی بڑی ایک نہر نہیں بلکہ ایک قلزم جاری ہوتا ہے عرفان کا اور علم کا۔اس زمانے میں اور خدا کی برکتیں جو اترتی ہیں وہ اس کے سوا ہیں تو علمی استفادے کے سوا ان لوگوں میں بیٹھ رہنا ہی بابرکت ہے اور برکت کا موجب ہے۔حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے فرشتے نازل ہوتے ہیں اور تلاش کرتے رہتے ہیں کہ کہاں ذکر الہی ہو رہا ہے۔ایسی مجلس میں کچھ فرشتے پہنچے جہاں ذکر الہی ہو رہا تھا۔وہ واپس گئے ( یعنی عروج فرمایا جو بھی اس کے معنی ہیں ) اور خدا کے حضور عرض کیا کہ اے خدا! تیرے کچھ بندے محض تیری خاطر بیٹھے ہوئے تھے اور تیرا ذکر کر رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان بندوں کو میں نے بخش دیا۔ان کے سارے گناہ بخش دیئے۔اس پر ایک فرشتے نے عرض کی کہ اے خدا! ان میں ایک وہ بھی تھا جو ذکر الہی کی وجہ سے وہاں اکٹھا نہیں ہوا تھا۔وہ راستہ چلتے ہوئے مجلس دیکھ کے کچھ دیر کے لئے رک گیا تھا۔تو خدا نے فرمایا جو لوگ میرے ذکر کی خاطر ا کٹھے ہوتے ہیں ، ان میں اتنی برکت ہوتی ہے کہ ان کے ساتھی بھی بخشے جاتے ہیں۔وہ بھی برکت پا جاتے ہیں۔پس اتتارحیم وکریم ، بے انتہا رحمتیں فرمانے والا خدا جن کو نصیب ہو جائے ،اس کی رحمتوں سے محروم اس حد تک ہو جائیں کہ ان لوگوں میں بیٹھنا بھی نصیب نہ ہو سکے جو خدا کے ذکر کی خاطر ا کٹھے ہوئے ہیں تو بہت بڑی محرومی ہے۔اس لئے قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا (التحریم آیت ۷) صرف اپنے کو نہ بچاؤ بلکہ اپنے بچوں اور اپنی اولادوں کو بھی آگ سے بچاؤ۔اور وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ (الحشر آیت ۱۹) ہر انسان، ہر جان نگران رہے کہ وہ آئندہ عاقبت کے لئے بھی اور اس دنیا میں بھی کیا پیچھے چھوڑ کر جارہا ہے۔اگلی نسلوں کے لئے کیا نمونے بھیج رہا ہے؟ نیکیوں کو اگلی نسلوں میں جب تک راسخ نہ کر لیں چین کا سانس نہ لیں اس نقطہ نگاہ سے انصار کی تربیت کے لحاظ سے میں عرض کر رہا ہوں ) پہلی ذمہ داری ہے کہ جو کچھ انہوں نے پایا ہے اس ماحول میں یا اس سے پہلے ساری عمر میں جو کچھ بھی کمایا نیکیوں کی صورت میں، اس کو اگلی نسلوں میں جب تک رائج اور راسخ نہ کر لیں ، چین کا سانس نہ لیں۔اور یہ کام دعاؤں کے بغیر ممکن نہیں ہے۔مسلسل ، بار بار کی دُعا اور التجا خدا کے حضور کہ اے خدا زندگی تو تیرے بس میں ہے۔میرے بس میں نہیں۔میری تمنا یہ ہے کہ میں اچھی ، پاک نسلیں چھوڑ کے جاؤں جو تیرے ذکر کو ہمیشہ زندہ رکھیں اور تیری محبت ان کے دلوں میں بسی رہے اور کوئی غیر کی محبت تیری محبت کے بدلے داخل نہ ہو سکے بلکہ تیری محبت ہی اور محبتوں کو جنم دینے والی ہو۔کسی غیر کی دشمنی ان کے دل پر غالب نہ