تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 198
۱۹۸ خفت پر آمادہ ہوں اور حضور حالتِ کرب میں اللہ تعالیٰ کی دہلیز پر دردمندانہ طور پر طالب ہدایت ونصرت ہوئے تو خدا تعالیٰ کی رحمت جوش میں آئی اور یہ بشارت حضور کو دی گئی وَسِعُ مَكَانَكَ إِنَّا كَفَيْنَكَ الْمُسْتَهْزِءِ يُنَ یعنی اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔خفت کا ارادہ رکھنے والوں کی فکر نہ کرو۔ہم خودان کے مقابل تمہاری حفاظت کریں گے اور جو تد بیر وہ اختیار کرنے والے ہیں۔اس کے نتیجے میں سلسلہ کی طرف رجوع خلائق ہوگا۔سلسلے میں نئے داخل ہونے والوں کی تعلیم و تربیت اور ان کی روحانی خوشحالی کے لئے ابھی سے سامان کی فکر کرو۔اللہ اللہ ! کس قدرحق تعالیٰ کو اپنے مومن و مخلص بندوں کی دلداری مطلوب ہے اور کس قدر غیرت اپنے قائم کردہ سلسلے کے لئے وہ رکھتا ہے اور ظاہر کرتا ہے۔فَسُبحَانَ الله والْحَمْدُ لِلَّهِ - تو ہمیں یہ فکر تو ہرگز ہرگز کبھی لاحق نہیں ہونی چاہئیے کہ معاندین سلسلہ کبھی سلسلے یا جماعت کو من حیث الجماعت کوئی گزند پہنچانے میں کامیاب ہو سکیں گے۔اللہ تعالیٰ کے پختہ وعدے مومنین کی نصرت کے ہیں۔اللہ تعالیٰ صادق الوعد اور قومی عزیز ہے۔البتہ ہمیں ہر لحظہ یہ فکر رہنی چاہئیے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں مومن قرار پائیں اور اس کی رحمت اور نصرت کے مستوجب اور مورد رہیں۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام نے فرمایا: عدد جب بڑھ گیا شور وفغاں میں نہاں ہم ہو گئے یار نہاں میں یہ ایک نہایت لطیف نکتہ ہے۔جو اللہ تعالیٰ میں نہاں ہو گیا ،اُسے کیا خطر اور اُسے کیا خوف۔جو تیر اس پر چلایا جائے گا وہ گو یا اللہ تعالیٰ پر چلایا گیا اور اس کا حشر معلوم۔لیکن اللہ تعالیٰ میں نہاں ہونے سے کیا مراد ہے؟ یہی کہ اللہ تعالیٰ میں نہاں وہی ہو سکے گا جوگلی طور پر صفات الہیہ کا مظہر اور عکس ہوگا۔فتدبروا۔پھر اللہ تعالیٰ میں نہاں کیسے ہوں؟ اور نئے آنے والوں کی تربیت کے لئے کیسے سامان ہو؟ اور ہم ان کے لئے کیسے نمونہ ٹھہریں؟ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ارْكَعُوا وَاسْجُدُوا وَاعْبُدُوا رَبَّكُمْ وَافْعَلُوا الْخَيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ) وَجَاهِدُوا فِي اللهِ حَقَّ جِهَادِهِ هُوَ اجْتَبكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ مِلَّةَ أَبِيْكُمْ إِبْرَاهِيمَ هُوَ سَمَّكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِنْ قَبْلُ وَفِي هَذَا لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُوْنُوْا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ فَأَقِيمُوا الصَّلوةَ وَأَتُوا الزَّكُوةَ وَاعْتَصِمُوا بِاللهِ هُوَ مَوْلَكُمْ ۚ فَنِعْمَ الْمَوْلَى وَنِعْمَ النَّصِيْرُ