تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 197
۱۹۷ فرمایا جسے مکرم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب قائد مجالس بیرون نے پڑھ کر سنایا۔آپ نے فرمایا: دد مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے واجب التعظیم محترم صدر کے ارشاد کی تعمیل میں خاکسار گذارش کرتا ہے کہ مخالفین سلسلہ عالیہ احمدیہ جب دلائل اور حقائق کے میدان میں عاجز آ چکے تو انہوں نے سلسلہ کی روز افزوں ترقی کو روکنے کی نئی نئی تراکیب اختیار کرنا شروع کیں۔تاریخ سلسلہ میں یہ بھی ایک انوکھا سبق آموز باب ہے۔مخالفین حق اگر مخلصانہ طور پر مثلا شیان حق کی حیثیت سے فکر کریں تو آج جب سلسلہ پر بانوے سال سے زائد عرصہ گذر چکا ہے اور اللہ تعالیٰ کی فعلی شہادت روز روشن کی طرح سلسلے کی حقانیت کا متواتر اعلان کرتی چلی جارہی ہے۔یہی امران کی تشفی کے لئے کافی ہونا چاہیئے لیکن افسوس کہ ضد پر قائم ہیں اور بصیرت کا فقدان ہے۔۱۹۷۴ء کے خونفشاں واقعات کا سلسلہ بھی اس زنجیر کی ایک کڑی ہے۔جب معاندین سلسلہ کا ایک گروہ پیٹ بھر کر خونریزی کر چکا اور خدام سلسلہ کے اموال اور جائیدادوں کا اتلاف کر چکا تو نام نہاد علمائے امت میں سے ایک طبقہ نے حکومت کے ارباب حل وعقد کو اس امر پر آمادہ کیا کہ جماعت احمد یہ پاکستان کو آئین اور قانون کے شکنجے میں کھینچ کر کچلا جائے۔چنانچہ پاکستان کی مجلس قوانین ساز نے سے ستمبر ۱۹۷۴ء کے دن اپنے اختیار کردہ ریزولیوشن کی شکل میں وہ شکنجہ تیار کیا۔اپنے زعم میں تو انہوں نے جماعت کو کچل دینے اور سلسلے کی پاکستان میں آئندہ ترقی کو مسدود کرنے کا سامان بہم پہنچا لیا۔لیکن ہوا کیا؟ ہوا وہی جو اللہ تعالیٰ قادر و مقتدر کی غیرت حق ہمیشہ سے صادر کرتی چلی آتی ہے۔یعنی انصار اللہ کے معاندین ایک چال چلے۔وَمَكَرُوا۔اور اللہ تعالیٰ نے انہیں خائب و خاسر کرنے کی اپنی حکیمانہ تدبیر کی۔وَمَكَرَ الله۔اور اللہ تعالیٰ ہی کی تدبیر غالب ہوا کرتی وَاللهُ خَيْرُ الْمُكِرِينَ۔یہ اللہ تعالیٰ کا اٹل قانون ہے اور اُس کی لاتبدیل لاتحویل سنت ہے۔كتب الله لأغْلِبَنَّ انَا وَ رُسُلِي إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ ہے۔چنانچہ واقعات شاہد ہیں کہ پارلیمنٹ پاکستان کی کارروائی اور ریزولیوشن کی اشاعت کا ایک زبر دست رد عمل یہ ہوا کہ متلاشیان حق نے تحقیق حق کی خاطر جوق در جوق مرکز سلسلہ کی طرف رجوع کرنا شروع کیا اور ان میں سے ایک بھاری کثرت کو قبول حق کی توفیق عطا ہوتی چلی جارہی ہے۔جب پارلیمنٹ نے اپنی کارروائی کے دوران جماعت احمدیہ کے امام حضرت خلیفتہ اسیح الثالث ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کو دعوت دی کہ حضور بنفس نفیس پارلیمنٹ کی کمیٹی کے روبرو اپنے عقائد کی تفصیل پیش کریں اور حضور کو اس ضابطہ سے ، جو اختیار کیا گیا ، یہ اندیشہ ہوا کہ ممکن ہے کمیٹی کے ارکان حضور کی