تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 153
۱۵۳ مکرم نائب صدر صاحب نے مزید بتایا کہ مرکز کی طرف سے جو تحریکات جاری ہیں ان پر عمل درآمد تیز تر کرنے کے لئے بھی تلقین کی گئی۔ہر جگہ مبلغین کرام، دیگر دوستوں اور مجالس خدام الاحمدیہ نے بڑا تعاون فرمایا۔مجھے دورے کے بارے میں بہت فکر تھا لیکن خدا کے فضل سے کسی جگہ مشکل پیش نہیں آئی اور کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔انہوں نے صدر مجلس حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کا خصوصی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ہر لمحے پر حوصلہ افزائی کی اور مسلسل ہدایات سے نوازتے رہے۔صدر محترم کا خطاب اس کے بعد حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب صدر مجلس نے صدارتی خطاب فرمایا۔آپ نے فرمایا کہ اس دورہ میں محترم چوہدری صاحب کو جو ٹھوس تنظیمی کام کرنے کی توفیق ملی وہ بہت محنت طلب تھا اور کوئی آسان کام نہیں تھا۔لیکن باوجود اس کے کہ کام بہت مشکل اور مقابلۂ وقت بہت مختصر تھا۔چوہدری صاحب موصوف نے بڑے تحمل اور حکمت اور صبر سے یہ کام سرانجام دیا۔اور جب تک کام پوری طرح مکمل نہیں ہو گیا، آرام نہیں کیا۔صدر محترم نے چوہدری صاحب کے کام کی لگن اور محنت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے انہیں جن قابل دید میوزیم دیکھنے کی تاکید کی تھی ، جو بے حد قیمتی علمی سرمایہ پرمشتمل ہیں، وہ بھی محض اس وجہ سے نہ دیکھ سکے کہ کام کے مقابل پر وقت بہت کم تھا اور بعض ممالک میں کام کو صفر سے شروع کر کے اس طرح آگے بڑھانا پڑا کہ الف سے ی تک ساری تجنید خود بیٹھ کر کروائی۔دورے کی کامیابی پر مزید فرمایا کہ باہر سے جور پورٹیں آ رہی ہیں وہ بڑی حوصلہ افزاء ہیں اور یہ دیکھ کر بڑی خوشی ہوتی ہے کہ بہت اچھے طریق پر کام شروع ہو چکا ہے اور بھی جگہوں پر جہاں چوہدری صاحب گئے ہیں، احباب پر بہت اچھا اثر پڑ رہا ہے۔محترم صدر مجلس نے یہ بھی فرمایا کہ اس دورے سے اب ہمیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بیرون ملک مجالس کا نظام سنبھالنے کے لئے مرکز میں صرف ایک قائد مجلس بیرون کافی نہیں ہے۔اس کے لئے اب بڑے پیمانے پر دفتر قائم کرنا پڑے گا اور ابلاغ کے جدید ترین ذرائع کو استعمال میں لا کر انصار کی تعلیم و تربیت کا کام کرنا پڑے گا۔آپ نے کہا کہ صرف یہ کام ہی بہت توجہ طلب ہے اور بہت روپیہ چاہتا ہے۔لیکن روپیہ اللہ تعالیٰ خود مہیا فرمادے گا۔آپ نے فرمایا کہ عملاً ان ممالک میں احمدیوں نے تعلیم و تربیت کا سارا بار مبلغین پر ڈالا ہو ا ہے اور ان ممالک میں خصوصی غور طلب مسئلہ تربیت اولا د ہے۔آپ نے فرمایا کہ مکرم چوہدری صاحب کے دورے کے تمام ماحصل کو مجتمع کرنے کے لئے ایک کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو تمام امور پر غور کے بعد اس دورہ سے زیادہ سے زیادہ مستقل نوعیت کے فوائد حاصل کرنے کے سلسلہ میں ایک مفصل رپورٹ پیش کرے گی اور اس بارے میں بھی مشورہ دے گی کہ شعبہ بیرون کی تنظیم نوکس