تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 139
۱۳۹ جن جن احباب جماعت نے آپ کے ساتھ بھر پور تعاون کیا ہے ، ان سب کو میں خود شکریہ کے خطوط لکھ رہا ہوں تا کہ حوصلہ افزائی ہو اور آئندہ پہلے سے بڑھ کر نیک کاموں میں تعاون کی روح پیدا ہو۔حضرت شیخ مبارک احمد صاحب نے استفسار فرمایا ہے کہ DUPLICATOR کون سا لیا جائے۔سو پونڈ والا یا ہزار پونڈ والا۔ہماری تعلیم و تربیت کی سکیم اتنی وسیع ہے کہ PROFESSIONAL DUPLICATOR کے بغیر جو 1000 پاؤنڈ کا آتا ہے، گزارہ نہیں ہوسکتا۔انصار اللہ کے مرکزی فنڈ میں کافی رقم موجود ہے۔اس لئے پروفیشنل کیسٹ ڈوپلیکیٹر ہی لینا چاہئے۔تاہم ابھی اسے ملتوی رکھیں۔امریکہ سے بھی قیمت کا پتہ کرلیں۔علاوہ ازیں ہمیں سلائیڈز کے لئے بھی ڈوپلیکیٹر سسٹم کی ضرورت ہے۔اس کے لئے بھی فی الحال جائزہ لے لیا جائے۔عبدالحفیظ صاحب کھو کھر کو بھی اس بارہ میں کچھ واقفیت ہے۔ان کے علاوہ کئی مقامی دوست بھی فنی لحاظ سے مفید مشورہ دے سکیں گے۔اس ضمن میں بھی انگلستان کے اعداد و شمار کا امریکہ کے اعداد و شمار سے موازنہ کے بعد فیصلہ ہونا چاہئے۔آج کل یہاں گرمی شدید ہے اور ساتھ ہی کام بھی زوروں پر جاری ہے۔اللہ تعالیٰ ذمہ داریوں کو باحسن نبھانے کی توفیق بخشے۔انگلستان میں سب احباب جماعت کو محبت بھرا سلام عرض کر دیں۔کل تک پیغام برائے اجتماع بھی ارسال کر دوں گا۔حضور ایدہ اللہ آج کل اسلام آباد ہیں۔خاص طور پر پاکستان کے لئے دعا کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ انہیں حضرت صالح علیہ السلام کے واقعہ سے سبق لینے کی توفیق بخشے۔آمین دورہ کی تفصیلات مکرم نائب صدر صاحب نو ملکی دورہ پر ۲ مئی ۱۹۸۱ء کو کراچی سے روانہ ہوئے۔سب سے پہلے آپ فرینکفرٹ (جرمنی) پہنچے پھر یکے بعد دیگرے حسب پروگرام دیگر یورپین ممالک کے کامیاب دورہ کے بعد سان فرانسسکو (امریکہ ) تشریف لے گئے۔امریکہ اور کینیڈا کے دورہ کے بعد ٹوکیو (جاپان) اور وہاں۔۲۱ جولائی ۱۹۸۱ء کو کراچی واپس پہنچے۔مکرم نائب صدر صاحب جہاں بھی تشریف لے گئے، احباب جماعت کو سیدنا حضرت خلیفہ اس الثالث کی طرف سے ”سلام“ کا تحفہ دیا۔مزید برآں مجالس کو ہدایت دی کہ سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے ان ممالک میں دوروں کے دوران حضور اقدس کے خطابات اور پریس کانفرنسز کی TAPES کی کا پیاں اور اہم مواقع کی سلائیڈ ز مرکز کوضرور بھجوائیں۔ނ