تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 95 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 95

۹۵ ۷۴ء میں جب میں نیشنل اسمبلی گیا ہوں۔خدا تعالیٰ نے بہت نشان دکھائے۔بہت بڑا نشان یعنی عجیب ہے اپنی کمیت VOLUME کے لحاظ سے کہ جب انہوں نے کہا کہ پہلے تو زبر دستی مجھے بلایا۔ہم نے کراس ایگزیمن (CROSS EXAMINE) کرنا ہے۔پہلے کہا کہ محضر نامہ خود پڑھو جماعت کا۔ہم سوال کریں گے۔آپ جواب دیں۔مجھے پتہ لگا تو میں نے پیغام بھیجا کہ نوے سال پر پھیلا ہوا ہے ہمارا لٹریچر۔اور مذہب کا معاملہ ہے۔بڑا سنجیدہ ہے۔اور میں نے کبھی دعوی نہیں کیا کہ سارالٹر پچر مجھے زبانی یاد ہے۔ایک دن پہلے آپ سوال لکھ دیں، بھجواد ہیں۔ہمیں دے دیں۔اگلے دن ہم جواب دے دیں گے۔انہوں نے کہا نہیں۔ہمارا یہ فیصلہ ہے کہ اُسی وقت سوال ہوگا۔اُسی وقت آپ جواب دیں گے۔میں نے کہا ٹھیک ہے۔دعا کی بھی اللہ تعالیٰ توفیق دیتا ہے۔قریباً ساری رات میں نے دعا کی خدا سے۔خیر مانگی اُس سے صبح کی اذان سے ذرا پہلے مجھے یہ کہا گیا۔وَسِعُ مَكَانَكَ إِنَّا كَفَيْنَكَ الْمُسْتَهْزِءِ يُنَ کہ مہمان تو پہلے سے بھی زیادہ آئیں گے۔اتنی بڑی خوشخبری۔یہ استہزاء کا منصوبہ تو بنارہے ہیں۔یہ ٹھیک ہے۔لیکن فکر کیوں کرتے ہو؟ ہم تمہارے لئے کافی ہیں۔ان کی رپورٹ جو تھی ، وہ یہ تھی کہ انہوں نے گیارہ دنوں پر پھیلا کر کل باون گھنٹے دس منٹ مجھے CROSS EXAMINE کیا۔باون گھنٹے دس منٹ كَفَيْنكَ المُسْتَهْزِعِيْنَ کا مجھے یہ نظارہ نظر آتا تھا جس طرح فرشتہ میرے پاس کھڑا ہے۔جہاں مجھے جواب نہیں آتا تھا وہاں مجھے جواب سکھایا جاتا تھا۔بعض دفعہ یہ بتایا جاتا تھا کہ یہ جواب اس طرح دینا ہے۔مثلاً ایک رات شام کو مجھے یہ کہا گیا کہ اس کا جواب نہیں دینا اس وقت کل صبح دینا ہے۔میرے پیچھے پڑ گئے۔میں نے کہا میں نے دینا ہی نہیں۔بہت پیچھے پڑے۔میں نے کہا آپ یہ لکھ لیں، میں نہیں جواب دینا چاہتا۔میں نے اس وقت جواب نہیں دینا۔تو مجھے یہی کہا گیا تھا کہ کل صبح دینا جواب۔کیونکہ کل صبح دینے میں اُن کے لئے کافی خفت کا سامان پیدا ہونا تھا۔یعنی اس تفصیل کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے راہنمائی کی۔کوئی معمولی بات نہیں ہے۔باون گھنٹے دس منٹ پر ہر ہر سوال کا جواب مجھے وصول ہوایا سوال سکھا یا جا تا تھایا یہ کہ اس کا جواب کس طرح دینا ہے، یہ بتایا جاتا تھا۔ایک دن یہ سوال کیا۔ایک پیرا یہاں سے شروع ہوا۔یہ ایک صفحہ سمجھیں اس کو۔یعنی بیچ میں لکیر نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ہے۔یہاں سے شروع ہوا۔یہاں جا کے ختم ہوا۔یہاں سے ایک فقرہ اُٹھایا سوال کے لئے۔ایک فقرہ ایک پیرے سے اُٹھا کے کہنے لگے ، یہ تو جی بڑے قابل اعتراض فقرے لکھ گئے ہیں مرزا غلام احمد صاحب۔تو بڑا فساد پیدا ہوتا ہے۔اس قسم کی باتیں شروع کر دیں۔مجھے کہا گیا ابھی جواب دو۔مجھے جواب کوئی نہیں آتا تھا۔