تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 81
ΔΙ آجائیں۔میں نے کہا کہ ٹھیک ہے دونوں کام ہو جائیں۔غالبا جولائی کا وسط تھا۔ہمارے انگلستان کے مبلغ آئے۔وہ مجھے کہنے لگے کہ انگلستان میں پاکستان کے ہر علاقے کے مزدور آئے ہوئے ہیں۔بہت متعصب ہیں اور جماعت NERVOUS ہوئی ہوئی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت صاحب یہاں پہنچیں تو حفاظت کا کوئی انتظام ہونا چاہئیے۔اور بہت پریشان ہیں اور کہنے لگے ہماری بھی پریشانی اور بڑھ گئی کیونکہ وہ جوائیر پورٹ کا انچارج ہے، اُس کا اتنا بڑا مقام ہے کہ حکومت انگلستان اُس کو سر کا خطاب دیتی ہے۔اس کے پاس ہم ایک دفعہ وفد بنا کے گئے۔اُس نے کہا کہ ٹھیک ہے تم اُن کو امام مانتے ہو گے لیکن پاکستان کی طرف سے VIP-VERY IMPORTANT کی فہرست ہمیں ملی ہے، اُس میں تو اُن کا نام کوئی نہیں۔اس لئے ہم نے کوئی انتظام نہیں کرنا۔پھر دوسری دفعہ گئے پھر چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو تکلیف دی کہ آپ جا کر ملیں۔چوہدری صاحب کو بھی اُس نے کہا کہ میں نے کوئی انتظام نہیں کرنا۔مبلغ کہنے لگے کہ ہمیں یعنی ساری جماعت کو بڑی پریشانی ہے۔اگر کسی نے نعرے لگا دیئے۔فساد کر دیا تو وہ ہمارے لئے بڑی پریشانی کا باعث بن جائے گا۔خیر میں نے تو اللہ تعالیٰ سے اُس کے فضل اور رحمت کے لئے دعا مانگی۔ویسے قرآن کریم نے جو دعائیں سکھائی ہیں، ساری بڑی پیاری ہیں۔لیکن مجھے سب سے زیادہ پیاری یہ دعا لگتی ہے۔رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَى مِنْ خَيْرِ فَقِيرٌ یعنی اپنی طرف سے کچھ نہیں مانگتا۔جو خیر بھی تیری طرف سے مجھے ملے، میں اُس کا محتاج ہوں۔مجھے اللہ تعالیٰ نے کہا کہ تمہاری ساری کوششیں ناکام ہوں گی تو میں انتظام کر دوں گا۔میں نے بشیر رفیق صاحب کو کہا کہ مجھے خدا نے یہ بتایا ہے کہ اب آپ کوشش نہ ہی کریں تو اچھا ہے۔خدا آپ ہی انتظام کرے گا۔یہ دو دن پہلے چلے گئے اور پھر جا کے کوشش کی۔پھر ان کو وہی جواب ملا ،نہ۔پھر یہ ایک دن پہلے گئے۔ہمارا جہاز لینڈ کیا تو ایک کار آئی اور وہ سیڑھیوں کے برابر کھڑی ہوگئی۔کھڑکی کی طرف ہم بیٹھے ہوئے تھے۔ہم نے کہا کوئی بیٹھا ہوگا ایسا آدمی جس کے لئے کار کی ضرورت ہے۔توجہ بالکل نہیں تھی۔اس کار سے ایک آدمی اترا۔ہمارے سامنے آیا اور میرا بریف کیس اُٹھانے لگا۔میں نے اُس کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا تمہیں کچھ غلط فہمی پیدا ہوئی ہے۔جس کے لئے تم آئے ہو، وہ میں نہیں ہوں۔تلاش کرو اپنا مہمان۔تو وہ مجھے آرام سے کہنے لگا کہ میں آپ کے لئے آیا ہوں۔میں حیران کہ وہ تو کہتے ہیں کہ انتظام ہی کوئی نہیں کرتا۔یہ کیا ہو گیا؟۔خیر ہم کار میں بیٹھے۔آگے لے گئے۔وہ بہت بڑا ایئر پورٹ بن گیا ہے۔کافی چلنا پڑتا ہے۔لوگوں کو پیدل وہ سامان چیک کروانا جو عام طریقہ ہے۔ہم نے کہا ٹھیک ہے۔کیا فرق پڑتا ہے۔آگے گئے تو ایک کمرے میں بڑا انتظام تھا۔جماعت آئی ہوئی تھی۔عورتوں کا علیحدہ