تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 80 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 80

سکر کے چھوٹی ہو گئی۔اُس وقت سیاح نکلتے تھے تو گھر میں سلام کر کے جاتے تھے، پتہ نہیں پھر ملیں گے بھی کہ نہیں۔اس زندگی میں ایسا نہیں اور ساری دنیا کا چکر کاٹ کے آپ چو میں گھنٹوں کے اندراندرگھر پہنچ جاتے ہیں۔ابن بطوطہ نکلا تھا تو وہ جب واپس آیا ہو، شاید اُس کے بچوں نے بھی اُسے پہچانا نہیں ہوگا۔شاید اُس نے بھی نہ پہچانا ہو۔زمانہ بدل گیاناں، چھوٹا ہو گیا۔زمین سکڑ گئی۔ساری دنیا کو مسلمان بنایا جائے اب یہ امریکہ یہاں سے کوئی کم و بیش دس ہزار میل ہے یا شاید اس سے بھی زیادہ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ اعلان کیا کہ مجھے اس لئے قائم کیا گیا ہے کہ میرے ذریعے اور میری جماعت کے ذریعے ساری دنیا کو مسلمان بنایا جائے۔پھر ساری دنیا میں جس جگہ جو مزاج اس زمانے کا ہے اُس کے مطابق اُن کو دلائل بھی بتانے پڑیں گے۔اُس کے مطابق خدا تعالیٰ نشان بھی اُن کو دکھاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے بعد اب قریباً اکانوے سال ہو گئے۔ویسٹ افریقہ یہاں سے پانچ چھ ہزار میل دور ہے، وہاں سے مجھے اپنی خلافت کے تیسرے سال ایک عورت کا یہ خط آیا کہ بیالیس سال ہو گئے ہیں شادی کو اور لڑ کا کوئی نہیں یا یہ کہ بچہ ہی کوئی نہیں۔بہر حال وہ چاہتی تھی کہ دعا کریں ، خدالر کا عطا فرمائے۔خیر میں نے اُن کو لکھا کہ تم بھی دعا کرو۔میں بھی دعا کروں گا۔یہ واقعہ ہے کوئی ۶۶ یا ۶۷ ء کا۔کیونکہ جب ہم ۷۰ء میں گئے ہیں تو کوئی دو تین سال کا بچہ اُس کی گود میں تھا۔اللہ تعالیٰ نے اُس کو یہ نشان دکھایا کہ اُس کے ہاں بچہ ہو گیا۔ایسٹ افریقہ میں ایک سکھ جو کسی احمدی کا دوست تھا، اُس نے مجھے لکھنا شروع کیا کہ میری یہ ضرورت ہے، آپ دعا کریں۔وہ لکھتا رہا۔ایک دن اُس کا یہ خط آیا کہ میں اس طرح آپ کو لکھتارہا اور آپ کی دعا خدا نے قبول کی ، میرا کام ہو گیا۔تو میں تو اب بھی آپ کو لکھتا رہوں گا لیکن آپ کو ضرورت نہیں میرے خط کا جواب دینے کی۔آپ کے پیسے کیوں ضائع ہوں۔وہ اپنی طرف سے پیسے بچارہا تھا۔میں نے دفتر کو کہا کہ یہ تو اس کا اپنا خیال ہے۔وہ جو خط لکھے اُس کا جواب ضرور چلا جائے۔قبولیت دعا کے نشان تو میں علی وجہ البصیرت آپ کو بتارہا ہوں کہ ساری دنیا نے قبولیت دعا کے نشان دیکھے۔جب میں پہلی دفعہ ۱۹۶۷ء میں باہر گیا ہوں تو پروگرام کے مطابق ہم فرینکفرٹ میں اتر گئے۔یورپین مشنز کا پہلے دورہ کیا اور کوپن ہیگن کی مسجد کا افتتاح کرنا تھا۔یورپ کے سارے مبلغین کو وہاں بلا لیا۔اُن سے مشورہ، تبادلہ خیال، کانفرنس کوپن ہیگن میں کر لی۔وہ شامل بھی ہونا چاہتے تھے۔انہوں نے لکھا کہ افتتاح میں