تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 67
20 67 کرنے کی توفیق ملی جن پر وہ بجا طور پر فخر کر سکتی ہے یہ سارا کام جو رضا کارانہ طور پر احمدی خواتین نے مجاہدین فرقان فورس کے لئے کیا حضرت سیدہ اُمّم داؤ د صاحبہ کی نگرانی میں کیا گیا۔وردیوں کی وصولی ، ان کی مرمت ، صفائی غرض سارا سارا دن ان کے پاس عورتیں بیٹھ کر کام کیا کرتی تھیں۔لجنہ قادیان اور لجنہ لاہور کے جلسوں کا یہ سلسلہ کم و بیش دو سال تک جاری رہا۔اس کے بعد چونکہ قادیان سے آنے والی بیشتر خواتین لاہور سے ربوہ منتقل ہو گئیں اس لئے بعد میں صورت حال بدل گئی۔مہاجرات قادیان کے مندرجہ ذیل جلسے ہوئے:۔۱۵- فروری - ۲۹ فروری ۳ - ۱۸۔اپریل سے۔مئی سے محترمه سیده نصیرہ بیگم صاحبہ سیکر ٹری لجنہ قادیان ، حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ جنرل سیکرٹری لجنہ مرکزیہ اور محترمہ امۃ الرشید شوکت صاحبہ نے تقاریر کیں ) ۲۳ مئی شویم۔جولائی - ۱۸ جولائی کے ۲۹ اگست ( قادیان کی یاد میں جلسے ) مستورات لا ہور کے جلسے: ۲۔2 مئی۔یہ جلسہ زیر صدارت حضرت سیدہ ام داؤد صاحبہ منعقد ہوا جس میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب محترمہ بیگم صاحبہ ڈاکٹر شفیع احمد صاحب مرحوم دہلوی۔اور حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ مدظلہ العالی جنرل سیکرٹری لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے تقریریں کی تھیں۔ا۔شاہ مئی کو حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ مدظلہ العالی نے لاہور کی عورتوں سے خطاب کر کے جلسہ کی حاضری پر اظہار خوشنودی فرمایا نیز نئے عہدہ داران کی نامزدگی کا اعلان اور ان سے تعاون کرنے پر زور دیا۔۳۰ مئی کولا ہور کی خواتین کے نماز کے امتحان کا نتیجہ سنایا گیا۔له الفضل ۱۲۔فروری ۱۹۴۸ء صفحہ ۶ الفضل ۲۵ فروری ۱۹۴۸ء صفحه ۳ س الفضل ۱۱۔اپریل ۱۹۴۸ء صفحہ ۶ الفضل ۲۰ مئی ۱۹۴۸ء صفحہ ۷ ه الفضل ۲۔جون ۱۹۴۸ء صفحه ۴ الفضل ۱۵۔جولائی ۱۹۴۸ء صفحہ ۷ کالم۲ الفضل ۱۰۔جولائی ۱۹۴۸ء صفحہ ۷ کالم ۴ ۵ الفضل ۲۷۔اگست ۱۹۴۸ء صفحہ ۶ کالم ۳ 2 الفضل ۷ مئی ۱۹۴۸ء صفحہ ۶ کالم ۴ لله الفضل ۴ ، جون ۱۹۴۸ء صفحہ ۶ ۱۰ الفضل ۹ مئی ۱۹۴۸ء صفحه ۶ کالم ۴