تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 66 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 66

99 66 سیکرٹری میکلوڈ روڈ :- صدر محترمہ مریم در د صاحبہ اہلیہ حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب درد محتر مہ رضیه در مصاحبه بنت حضرت مولوی عبد الرحیم صاحب درد محترمہ مبارکہ صدیقہ صاحبہ اہلیہ محترم نور الدین صاحب منیر سیکرٹری حلقہ متفرق: سیکرٹری محترمہ اہلیہ صاحبہ محترم ڈاکٹر غلام علی صاحب مرحوم کرشن نگر :- صدر محترمه سعیده شمس صاحبہ اہلیہ حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس لجنات اماءاللہ کے پندرہ روزہ جلسے: جیسا کہ گذشتہ صفحات میں بتایا گیا ہے تقسیم ملک کے بعد ۱۹۴۷ء میں بجنات اماء اللہ قادیان ، لاہور کے پندرہ روزہ تربیتی جلسوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا تھا۔یہ جلسے ۱۹۴۸ء میں بھی جاری رہے۔کئی جلسے تو قادیان کی خواتین اور لجنہ لاہور کے مشترکہ ہوتے تھے اور کئی الگ الگ۔حلقہ جات مہا جرات قادیان مقیم لاہور کی صدر حضرت سیّدہ ام داؤ د صاحبہ اور سیکرٹری محترمہ سیدہ نصیرہ بیگم صاحبہ بیگم حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب تھیں۔سیکرٹری مال محترمہ سیدہ امتہ القدوس صاحبہ بنت حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب، لجنہ اماءاللہ لاہور کی صدر محتر مہ امۃ اللہ مغل صاحبہ اور جنرل سیکرٹری زنیب حسن صاحبہ تھیں جن کا انتخاب ۹۔مئی ۱۹۴۸ء کو زیر نگرانی لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کیا گیا تھا۔ان کے علاوہ لجنہ لاہور کی مندرجہ ذیل عہدیدار منتخب ہوئیں:۔سیکرٹری مال لاہور محترمہ سردار بیگم صاحبہ اہلیہ محترم چوہدری عبدالرحیم صاحب نائبہ سیکرٹری مال لاہور محترمہ بلقیس بیگم صاحبہ بنت محترم شیخ سعید احمد صاحب سیکرٹری تعلیم لاہور محترمه زنیب بیگم صاحبہ اہلیہ محترم ڈاکٹر غلام حید ر صاحب سیکرٹری خدمت خلق لاہور محترمہ امینہ بیگم صاحبہ اہلیہ محترم محمد حسین صاحب ان پندرہ روزہ جلسوں میں دیگر تربیتی امور پر تقاریر کرنے کے علاوہ قادیان کی یاد میں خاص طور پر مضامین پڑھے جاتے تھے اور قادیان کی واپسی کے لئے دعائیں کی جاتی تھیں۔ان دنوں فرقان فورس کے مجاہد کشمیر میں داد شجاعت دے رہے تھے اس لئے ان کے لئے وردیوں ، جرابوں کی مرمت اور دیگر سامان کی تیاری کروائی جاتی تھی۔لاہور میں لجنہ اماءاللہ مہاجرات قادیان کی تنظیم کی موجودگی لاہور کی لجنہ کی بیداری کا بھی موجب بنی۔چنانچہ ان ایام میں لجنہ لا ہور کو بھی متعدد ایسے اجتماعی کام