تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 54
54۔۔۔۔4 مال رہیں۔۱۹۶۶ ء میں حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ مدظلہ العالیٰ کو ئٹہ تشریف لے گئیں۔آپ نے وہاں چار حلقے بنا کر ان پر جنرل صدر محترمہ استانی امتہ العزیز عائشہ صاحبہ اور محترمہ پروین طاہرہ صاحبہ بنت محترم ڈاکٹر غفور الحق صاحب کو سیکرٹری مقرر کیا۔۱۹۷۰ء کے انتخاب میں محترمہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ صدر منتخب ہوئیں۔لائل پور: ۱۹۲۶ء میں لجنہ قائم ہوئی۔پہلی صدر محتر مہ اہلیہ صاحبہ محترم چوہدری عصمت اللہ صاحب وکیل اور سیکرٹری محترمہ اہلیہ صاحبہ محترم قاضی محمد نذیر صاحب لائل پوری تھیں۔ہجرت سے قبل یہ شہر مخالفین احمدیت کا مرکز تھا۔۱۹۳۴ء میں جب مسجد فضل تعمیر ہوئی تو مخالفت زوروں پر تھی۔اس کی وجہ سے احمدی مستورات میں بھی بہت بیداری اور جوش تھا اور متعدد لڑکیوں کو اس زمانہ میں نمایاں کام اور خدمت کا موقع ملا۔احمدی لڑکیاں عیسائیوں میں تبلیغ کرنے کے لئے گرجوں میں بھی جاتی رہیں۔تبلیغی جلسے منعقد کرتی رہیں۔محترم قاضی محمد نذیر صاحب محترم مولوی عبدالغفور صاحب مربی مرحوم اور محترم بشیر احمد صاحب حقانی مرحوم ان کی مدد کرتے تھے۔ایک موقع پر سیالکوٹ کی لجنہ کی صدر محترمہ سیدہ فضیلت صاحبہ کو بھی بلوا کر ان سے تبلیغی لیکچر کروائے گئے تھے۔دستکاری سے بھی آمد پیدا کی جاتی تھی۔مندرجہ ذیل عہدیداران کو خدمت کا موقع ملا۔محترمہ بیگم صاحبہ محترم ڈاکٹر عبدالحمید صاحب، محترمہ ام مامون بشیر اختر صاحبه محترمه آمنه بیگم صاحبہ اہلیہ محترم مولوی نذیر احمد صاحب علی محترمہ بیگم صاحبہ محترم شیخ محمد محسن صاحب، محترمه سکینه شرما صاحبہ اہلیہ محترم مولوی عبدالکریم صاحب شر ما محترمہ فاطمہ بیگم صاحبہ اور ان کی ہمشیرہ محترمہ نیاز بیگم صاحبه، بنتان محترم چوہدری اللہ دتہ صاحب۔ہجرت کے بعد مندرجہ ذیل عہدیداران کام کرتی رہیں۔محترمہ طیبہ صدیقہ صاحبہ اہلیہ محترم نواب مسعود احمد خان صاحب، محترمہ محمودہ بیگم صاحبہ اہلیہ محترم شیخ محمد محسن صاحب، محترمہ صادقہ بیگم صاحبہ اہلیہ محترم آغا عبد اللطیف صاحب۔محترمہ نصرت بیگم صاحبہ اہلیہ محترم چوہدری محمد شریف صاحب، محترمہ حلیمہ بیگم صاحبہ مرحومہ اہلیہ محترم شیخ عبدالرشید صاحب لے آپ کو شیخو پورہ، قادیان محلہ دار البرکات میں اور پھر ربوہ میں کام کرنے کی توفیق ملی۔