تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 555
555 مصداق بنا کر خواتین احمدیت پر ایک بڑا انعام فرمایا ہے۔آپ جہاں لجنہ اماءاللہ کی بہتری کے لئے رات دن عملی لحاظ سے کوشاں رہتی ہیں وہاں قلم کے میدان میں بھی بہت عظیم خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔آپ کی ایک بہترین عملی سعی " الازهار لذوات الخمار “ کی صورت میں ۱۹۴۶ء میں ظہور پذیر ہوئی جو مزید اضافوں کے بعد دوبارہ چند سال ہوئے شائع ہوئی۔اس کتاب میں آپ نے حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قیمتی تقاریر اور ارشادات جو عورتوں سے یا عورتوں کے بارے میں تھے جمع کر کے ایک گرانقدر کارنامہ سرانجام دیا۔پھر ۱۹۷۰ء کے جلسہ سالانہ پر آپ کی گذشتہ دو سال سے ہمہ وقت محنت اور جانفشانی کا نچوڑ تاریخ لجنہ اماءاللہ کی شکل میں منظر عام پر آیا تاریخ لجنہ اماءاللہ یہ تاریخ اس احسان مندی کا ایک اظہار ہے جو حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی طرف سے خواتین احمدیہ کی ترقی و بہبود کے لئے کی گئی مساعی کے سلسلہ میں بصورت شکر واجب تھا۔تاریخ لجنہ کی پہلی جلد در اصل ۱۹۳۲ء سے ۱۹۴۷ ای تک کے واقعات پر مشتمل ہے۔لیکن اس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت خلیفہ اسی الاول رضی اللہ عنہ کے ارشادات برائے طبقہ نسواں اور ان کی بہتری اور تربیت کے لئے کی گئی مساعی جمیلہ کے ذکر کو بھی شامل کیا گیا ہے جو لجنہ اماء اللہ کا ایک طرح سے پیش خیمہ تھیں۔پھر حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت ام ناصر رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بے مثال نمونے اور الفضل کے اجراء کے لئے آپ دونوں کی قربانیاں خاص اہمیت رکھتی ہیں۔علاوہ ازیں اس دور کی دیگر مخلص احمدی خواتین کے ذکر خیر کو بھی شامل کیا گیا ہے۔تیسرا دور حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی خلافت سے شروع ہوتا ہے اور ہمیں اس تاریخ کے پڑھنے سے علم ہوتا ہے کہ حضرت مصلح موعودؓ کو احمدی عورتوں کی ترقی و بہبود کا خیال کس قدر بے چین وبے قرار رکھتا تھا۔اور آپ ان کی تربیت ، کردار، بیداری شعور اور دینی و دنیاوی علوم کے حصول کے لئے کیا کیا تدابیر فرماتے رہے۔پھر عورتوں میں کیا بے مثال جذبہ تھا۔وہ ہر تدبیر اور تحریک پر