تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 528 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 528

528 قرار دیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا تم پسند کرتے ہو کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھاؤ۔جس طرح تمہیں اس سے کراہت آتی ہے اسی طرح غیبت کرنے سے تمہارے دل میں نفرت پیدا ہونی چاہیئے۔مرداس بد عادت سے بڑی حد تک بچے رہتے ہیں خواہ وجہ کچھ بھی ہو۔لیکن عورتیں اکثر جہاں بھی جمع ہوں اس لعنت کو اپنے اوپر وارد کر لیتی ہیں۔حالانکہ اگر وہ اپنے فارغ اوقات میں اور اپنی مجلسوں میں بیٹھ کر یہ سوچتیں کہ وہ کون سے ذرائع ہیں جن سے اسلام کی اشاعت کو زیادہ سے زیادہ ترقی دی جاسکتی ہے۔اور لجنہ کی ترقی کی تدابیر سوچتیں تو ان کے لئے سعادت دارین حاصل کرنے میں کوئی شبہ باقی نہ رہ جاتا۔پس شعبہ تربیت کے ماتحت آپ کے لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ آپ اپنی اصلاح کریں اور اپنی دوسری بہنوں کی اصلاح کی بھی کوشش کریں۔شعبہ خدمت خلق کے سلسلہ میں آپ کو یہ کہنا چاہتی ہوں کہ چونکہ اکثریت اس جلسہ میں باہر کی عورتوں کی ہے اس لئے نہ صرف آپ اپنے رشتہ داروں اور احمدی بہنوں کی خدمت کریں بلکہ ہر مذہب سے تعلق رکھنے والی مخلوق کی خدمت کو اپنا فرض سمجھیں۔آپ خدمت کے وقت مسلمانوں، عیسائیوں، ہندوؤں اور یہودیوں میں کوئی فرق نہ رکھیں بلکہ اسلام کے حکم کے مطابق سب بنی نوع انسان کی خدمت کرنا آپ کے لئے ضروری ہے۔ربوہ میں اکثریت غرباء کی ہے اور بہت سی خواتین صرف اپنے بچوں کی دینی تعلیم کے لئے ربوہ میں مقیم ہیں۔لجنہ اماءاللہ مرکز یہ پوری کوشش کرتی ہے کہ جو غرباء باہر سے بچوں کی دینی تعلیم اور دینی ماحول کے لئے ربوہ میں آباد ہوئے ہیں۔جہانتک ہو سکے ان کی مدد کی جائے۔خواہ پیسوں کے ذریعہ یا کتب اور فیس کے معاف کرانے کے ذریعہ ہو۔باہر کی لجنہ سے اس شعبہ کے ماتحت جور پورٹ مرکز میں آتی ہے اس میں انفرادی مساعی کا ذکر ہوتا ہے حالانکہ اجتماعی کوششوں کا ذکر ہونا چاہیئے کہ ہماری لجنہ مل کر اتنی رقم اکٹھی کرتی ہے کہ اس سے کئی خاندانوں کا گزارہ ہوتا ہے۔ہر قوم کے افراد جو مدد کے محتاج ہوں ان کی مدد کی جائے تا سب کو معلوم ہو جائے کہ احمدیت میں تعصب نہیں۔۲۔شعبہ تعلیم کا کام یہ ہے کہ مختلف لجنات میں تعلیم کا انتظام کرے۔اس سے ظاہری تعلیم مراد نہیں کیونکہ اس کے لئے سکول اور کالج ہیں۔بلکہ اس شعبہ کے ماتحت مرکز سے ایسے کورس امتحان کے لئے مقرر کئے جاتے ہیں جن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب رکھی جاتی ہیں۔لیکن مجھے