تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 513
513 صلى الله یہ نقص مالداروں میں پایا جاتا ہے۔مجھے تعجب آتا ہے کہ یہ بے غیرت اور بزدل لوگ جنہوں نے محمد رسول اللہ ﷺ کی بات نہیں مانی انہوں نے اپنی قوم کی کیا خدمت کرنی ہے۔قوم کی خدمت کرنے والے تو وہ لوگ تھے۔جنہوں نے محمد رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کا ایسا شاندار نمونہ دکھایا کہ آج بھی تاریخ کے صفحات میں ان کے واقعات پڑھ کر انسان کا دل محبت کے جذبات کے ساتھ لبریز ہو جاتا ہے۔پس میں اس خطبہ کے ذریعہ ان لوگوں کو جو اپنی بیویوں کو بے پردہ رکھتے ہیں تنبیہ کرتا ہوں اور انہیں اپنی اصلاح کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ باقی احمدی بھی مجرم ہیں۔کیونکہ محض اس لئے کہ فلاں صاحب بڑے مالدار ہیں تم ان کے ہاں جاتے ہو۔ان سے مل کر کھانا کھاتے ہو اور ان سے دوستی اور محبت کے تعلقات رکھتے ہو۔تمہارا فرض ہے کہ تم ایسے آدمی کو سلام بھی نہ کرو۔تب بے شک سمجھا جائے گا کہ تم میں غیرت پائی جاتی ہے اور تم محمد رسول اللہ کے احکام کی اطاعت کروانا چاہتے ہو۔لیکن اگر تم ایسے شخص سے مصافحہ کرتے ہو، اس کو سلام کرتے ہواور اس سے تعلقات رکھتے ہو تو تم بھی ویسے ہی مجرم ہو جیسے وہ ہیں۔پس آج میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ جولوگ اپنی بیویوں کو بے پر دباہر لے جاتے اور مکسڈ پارٹیوں میں شمولیت اختیار کرتے ہیں اگر وہ احمدی ہیں تو تمہارا فرض ہے کہ تم ان سے کوئی تعلق نہ رکھو۔نہان سے مصافحہ کرو نہ انہیں سلام کرو، نہ ان کی دعوتوں میں جاؤ اور نہ ان کو کبھی دعوت میں بلاؤ۔تا کہ انہیں محسوس ہو کہ ان کی قوم اس فعل کی وجہ سے انہیں نفرت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔لیکن غیر احمدی کے متعلق ہمارا یہ قانون نہیں کیونکہ وہ ہماری جماعت میں شامل نہیں اور نہ ہمارے فتویٰ کے پابند ہیں۔وہ چونکہ جماعت میں شامل نہیں ان پر ان کے مولویوں کا فتویٰ چلے گا اور خدا تعالیٰ کے سامنے ہم ان کے ذمہ دار نہیں ہوں گے بلکہ وہ یا ان کے مولوی ہوں گے۔لیکن اگر تم ایسے لوگوں سے تعلقات رکھتے ہو جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں اور پھر رسول کریم ﷺ کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔تو صرف وہی نہیں بلکہ تم بھی پکڑے جاؤ گے۔خدا کہے گا کہ ان لوگوں کو تم نے اس گناہ پر دلیری اور جرأت دلائی اور انہوں سمجھا کہ ساری قوم ہمارے اس فعل کو پسند کرتی ہے۔پس آئندہ ایسے احمدیوں سے نہ تم نے مصافحہ کرنا ہے اور نہ انہیں سلام کرنا ہے، نہ ان کی دعوتوں میں جانا ہے اور نہ ان کو کبھی دعوت میں بلانا ہے، نہ ان کے پیچھے نماز پڑھنا ہے اور نہ ان کو جماعت میں کوئی عہدہ دینا ہے۔بلکہ اگر ہو سکے تو ان کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا۔اسی