تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 502 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 502

502 لڑکے کا لڑکا ) پوری ہوئی۔آپ کا رشتہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تجویز فرمایا تھا۔چنانچہ حضور نے ۱۸۹۵ء میں (جب حضرت مصلح موعود صرف سات برس کے تھے ) آپ کے والد ماجد حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کے نام مکتوب میں اس رشتہ کے ابتدائی خیال کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرمایا:۔ایک مرتبہ میرے دل میں خیال آیا تھا کہ اب میرے یہ چھوٹے تین لڑکے ہیں۔محمود (ہفت ساله) بشیر ( تین سالہ) شریف ( پانچ ماہ )۔بہتر ہو کہ اگر خدا تعالیٰ چاہے قریب بلوغ ہوکر بشرطیکہ جانبین کی اولاد میں اللہ تعالیٰ کا فضل خیر و عافیت رکھے آپ کی کسی لڑکی سے کوئی لڑکا منسوب ہو۔یہ خیال صرف میرے اس نیک ظن سے پیدا ہوا تھا جو مجھے آپ کے باطنی اخلاص اور محبت پر ہے۔۔۔اس خیال کو ابھی قابل ذکر نہ سمجھا جائے کہ خود بچے بہت کم سن ہیں۔ابھی بلوغ تک زمانہ پڑا ہے۔وہی ہوگا جو خدا کی طرف سے مقدّ راور اس کی نظر میں پسندیدہ ہے ! حضور کی اس مبارک تحریر سے واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت سیّدہ ام ناصر صاحبہ کے رشتے کا ابتدائی خیال خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دل میں پیدا ہوا۔یہ خیال چونکہ خدا تعالیٰ کی نظر میں پسندیدہ قرار پایا۔لہذا اکتوبر ۱۹۰۳ء میں اس نے عملی صورت اختیار کی۔یعنی آپ کی شادی حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ سے ہوگئی اور اس طرح قریباً ۶ ۵ سال تک آپ کو حضور کی رفاقت کا شرف حاصل ہوا۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے سات بیٹے اور دو بیٹیاں عطا فرمائیں۔جن میں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب خلیفتہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ کا بابرکت وجود بھی شامل ہے جو آپ کے سب سے بڑے صاحبزادے ہیں۔محترمہ صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ صدر لجنہ اماءاللہ ربوہ بھی آپ کی صاحبزادی ہیں۔جو ایک لمبے عرصہ سے بحیثیت صدر لجنہ اماءاللہ ربوہ اہم دینی خدمات بجالا رہی ہیں۔حضرت سیّدہ ام ناصر رضی اللہ عنہا کو یہ بھی فخر حاصل ہے کہ آپ لجنہ اماءاللہ کے یوم تاسیس سے لے کر تا وفات اس کی صدر رہیں اور متواتر ۳۶ سال اتک اس عہدہ پر فائز رہ کر اہم دینی اور جماعتی خدمات بجالاتی رہیں۔آپ بڑی سلجھی ہوئی طبیعت کی مالک تھیں۔تقوی شعار، باوقار، مخلص اور سلسلہ الحکم ۱۴ مئی ۱۹۳۴ء صفحہ ۷